بہائیت کے متعلق پانچ مقالے

by Other Authors

Page 55 of 130

بہائیت کے متعلق پانچ مقالے — Page 55

164 اور آپ کے لبوں سے انہوں نے خدا کی آواز گوٹنا حضرت بہاد اللہ فرماتے ہیں۔۔۔۔۔کہ رب الاخراج دنیا کے بنانے اور بچانے والے کی آمد جو تمام انبیاء کے بیانات کے مطابق آخری ایام میں واقع ہونے والی ہے اس سے سوائے اس کے اور کچھ مراد نہیں کہ خدا انسانی شکل میں منصہ شہود پر ظاہر ہوگا۔جس طرح اس نے اپنے آپ کو میسوع ناصری کی ہیکل رحم کے ذریعہ ظاہر کیا تھا۔اب اس مکمل پر اور روشن تر ظہور کے ساتھ آیا ہے جس کے لئے یسوع اور نام پہلے انبیا، لوگوں کے قلوب تیار کرنے آئے تھے۔و بہاء الله و عصر جدید مک ۲) پھر ان کے نزدیک بہاء اللہ کی زندگی میں بشری اور الہی عناصر کے درمیان کوئی صاف خطا نہیں کھینچی جا سکتا یہ لکھا ہے۔۔حضرت بہاء اللہ کی کتابوں میں یہ کلام وفتنا ایک مقام سے دوسرے مقام میں تبدیل ہو جاتا ہے ابھی تو ایک انسان کلام کرتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔اور ابھی ایسا معلوم ہوتا ہے کہ نہ یا خود کلام کر رہا ہے۔مقام بشریت سے کلام فرماتے ہوئے بھی بہاء اللہ اسی طرح کلام فرماتے ہیں جس طرح خدا کا فرستادہ کلام کرے اور لوگوں کو رضائے الہی کے سامنے کامل تسلیم کا زندہ نمونہ بن کر دکھائے۔آپ کی تمام زندگی روح القدس سے بھر توپر تھی۔اسلئے آپ کی زندگی اور تعلیمات میں بشری و الی عناصر کے درمیان کوئی صاف خط نہیں کھینچا ۵۳ جا سکتا رہاد الله و عصر جدید مرد بھائی لوگ بہاء اللہ کو جمال غیب در سیکل ظھور مانتے ہیں۔لکھا ہے :- جمال غیب در تشکیل ظهور میفرماید- اسے احمد نفحه از عرف گلستان قدس روحانیم بر عالم هستی و زید جمیع موجودات را بطراز قدس ہمدانی مزین فرموده ی الواح مشا۳) اس سلسلہ میں جناب عبد البہاء کا قول بالکل فیصلہ کن ہے۔آپ فرماتے ہیں کہ :۔واضح ہو کہ مسیحیت کے اصول اور حضرت بہاء اللہ کے استحکام بالکل ایک سے ہیں اور ان کے طریقے بھی ایک سے ہیں وہ اللہ و ری ہی ہیں، حضرات ! آپ نے اس ماحول کا بھی اندازہ لگا لیا جس میں جناب بہاء اللہ نے دعوی کیا تھا۔اور پھر آپ نے ان عقائد کا بھی ایک مر تک جائزہ لے لیا ہے جو اس وقت جناب بہاء اللہ کے دل و دماغ پر ستولی تھے۔آئیے اب ہم آپ کو جناب بہاء اللہ کا دعویٰ ان کے اپنے الفاظ میں سنائیں۔یاد رہے کہ یہ چند اقتباسات اُن صد تا اقتباسات میں سے بطور نمونہ ہیں جو بہاء اللہ کی تحریرات میں اس قسم کے پائے جاتے ہیں :- (ا) اپنی کتاب متین ماہ پر لکھتے ہیں :-