بہائیت کے متعلق پانچ مقالے — Page 54
۱۰۵ ۱۰۴ کے ایام میں اعلان دعوئی کو ذرا مصلحت کے خلاف سمجھتے تھے۔لکھا ہے:۔کے کہ باب بظورش چون منظر کلی اللی بشارت داده خود او میباشد و این را خدا مقرر فرموده که نادی و قائد آنها گرد در ولکن تا اکنون تشهیر این مسئله مصلحت نه دیده زیرا احیاء مہنوز استعداد ادراک آنرا نداشته اند، و بعلاوه وقت تعدیل و تجدید این نعضه نه رسیده بوده : ر تاریخ امر بہائی مثل ) ترجمہ :۔باب نے جس شخص کے ظہور کی نظر اپنی کلی کے نام سے بشارت دی تھی بہاء اللہ اپنے آپ کو اس کا مصداق جانتے تھے لیکن ابھی تک اس مسئلہ کی تشہیر کو خلاف مصلحت سمجھتے تھے کیونکہ دوستوں میں ابھی تک اس کے ادراک کی قابلیت نہ تھی۔علاوہ ازیں اس تحریک رہا ہیت) کی درستگی اور تجدید کا ابھی وقت نہ آیا تھا۔پر حال ان مشکلات کے باوجود اور اس ماحول میں جناب بہاء اللہ نے دعوی کر دیا۔ان کے اس دھونی کی نوعیت کو جاننے کے لئے یہ بھی جاننا ضروری ہے کہ اہل بیاد خدا کے انسانی جامعہ میں آنے کے بارے میں کیا عقیدہ رکھتے ہیں؟ بہائیوں کا عقیدہ ہے کہ جس طرح عیسائیوں کے نزدیک حضرت مسیح میں ناسوتی اور لاہوتی طبیعت تھی اسی طرح بہاء اللہ کے اندر ہے مسیح کی دو طبیعتوں کا ذکر بہائیوں نے ان الفاظ میں کیا ہے کہ :۔علماء سوریه و مساثر بلاد شرق حضرت عیسی را دارائے دو طبیعت و شیت دانستند و آن عبارت است از شیت کا ہوت دشیت کا سوت یعنی الوبیت و بشریت را الفرائد مصنفہ ابو الفضل بھائی مشکا بہائیوں کے نزدیک بہاء اللہ میں ان طبیعتوں کے پائے جانے کے متعلق ذیل کی عبارت گواہ ہے:- مقصود از اصل قدیم دیا اصل قدیم د یا بحر محیط با قوام حقیقت نورانیہ البیه است که موثر در وجود و محیط بر عوالم غیب و شهود است۔حضرت من اراده الله روح ما سواه خداه، از آن روئید و از آن بحر منشعب شده اند و دیگران از اصل حادث که تمام ظاہری جسما نیست روئیده و از جنبه نا سوتی خلق شده اند اوروس الديانة مطبوعه مصرف درس پنجاه و نهم بھائی صاف مانتے ہیں کہ عیسائیوں کا عقیدہ کہحضرت مسیح انسانی سیکل میں خدا کی آمد تھے بالکل صحیح ہے۔لکھا ہے کہ :- حضرت عیسی ایک وسیلہ تھے اور عیسائیوں نے آپ کے ظہور کو خدا کی آمد یقین کرنے میں بالکل صحیح رویہ اختیار کیا۔آپ کے چہرہ میں انہوں نے خدا کے چہرہ کو دیکھ