بہائیت کے متعلق پانچ مقالے — Page 129
۲۵۵ ۳۵۴ غیر مستقل و تابع ، انبیائے مستقبل اصحاب شریعت اندو موتیں دور جدیدت ومفاوضات عبد البهار ملا اور وہ آیت خاتم النبیین کے مطابق ہرقسم کے نبیوں کو بند قرار دیتے ہیں۔پس بیائیوں کے نز دیک کسی قسم کا نبی یا رسول نہیں آسکتا۔انڈا آیت میثاق النبیین سے اپنی کا استدلال غلط ہے۔چھٹی آیت بہائی۔قرآن مجید میں صاف لکھا ہے کہ آئیندہ شریت میمی رسول پر نازل ہو گی۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَلَوْنَ لَتَهُ عَلَى بَعْضٍ الْأَعْمِينَ، فَقَرَاهُ عَلَيْهِمْ مَا كَانُوا بِهِ مُؤْمِنِينَ ا الشعراء : ۱۹۸-۱۹۹) احمدی۔یا آپ سخت دوسو کہ خوردہ ہیں یا مغالطہ دینا چاہتے ہیں۔سورۃ الشعراء کی آیت کا ترجمہ یہ ہے کہ اگر ہم قرآن مجید کو کسی بھی انسان پر نازل کرتے اور وہ اس کو ان پر پڑھتا تو وہ اس پرایمان نہ لاتے۔اس آیت میں حرف کو ہے جو شرطیہ ہے اور اگر کے معنے دیتا ہے۔اس کشو سے تو یہ ثابت ہوتا ہے کہ ایسا واقعہ نہیں ہوا۔اور اگر ایسا واقع ہوتا تو یہ نتیجہ پیدا ہوتا۔پس یہ آیت تو کیسی تجمی پر اس قرآن مجید کے نازل ہونے کی نفی کرتی ہے۔کتنا عجیب ماجرا ہے کہ کہانی لوگ اسی آیت سے بھی شخص پر ناسخ قرآن شریعت کے نزول کا اثبات کرنا چاہتے ہیں۔سچ مچ قرآن مجید نہایت مظلوم ہے۔سورۃ الشعراء میں آتا ہے۔فلوانَ لَنَا كَرَّةً فَنَدُونَ مِنَ المومنین (۱۲۱) که مجرم جیمی کہیں گے کہ اگر ہمیں واپس دونیا میں جانے کا موقع ملے تو ہم مومن بن جائیں گے۔کیا اس آیت سے یہ استدلال درست ہے کہ کافر مُردہ واپس دنیا میں آئیں گئے ؟ تم بہائیوں کے غور کے لئے بطور مثال مندرجہ ذیل پان او د آیا تو پیش کرتے ہیں۔اللہ تعا لئے فرماتا ہے :- (1) ولو اتبَعَ الْحَقِّ أَهْوَاءهُمْ لَفَسَدَاتِ السَّمَوتُ وَالْأَرْضِ وَمَنْ فِيهِنَّ بَل أَتَيْتُهُمْ بِذِكرِهِمْ فَهُمْ عَنْ ذِكرِهُمْ مَعْرِ مكون من والمؤمنون: (۷۱) کہ اگر میں ان لوگوں کی تحہ اہشات کے تابع ہو جاتا۔تو آسمان و زمین اور تمام لوگ تباہ ہو جاتے اور بالی ان کے پاس ذکر لائے ہیں۔دینگے۔وہ اپنے ذکر سے اعراض کرنے والے ہیں۔(۲) وَلَو كُنتَ فَظًّا غَلِيظَ الْقَلْبِ لَانْفَضُّوا مِنْ حَوْلِكَ۔ر آل عمران : ۱۵۹) اگر تو سخت زبان اور سخت دل ہوتا تو یہ تیرے پاس سے بھاگ جاتے۔رس ولو اشركوا لحية عَنْهُم مَّا كَانُوا يَعْمَلُونَ (الانعام: من۔اگر یہ انبیاء شرک کرتے تو ان کے تمام اعمال اکارت چلے جاتے۔(ب) لَوْ كَانَ هَؤُلاء الِهَةً مَّا وَرَدُوهَار الانبياء: ۹۹) اگریه ثبت ضا ہوتے تو جہنم میں نہ گرتے۔