بہائیت کے متعلق پانچ مقالے — Page 128
۲۵۲ کیا تم نے اقرار کیا اور اس ذمہ داری کو اُٹھالیا ؟ انہوں نے کہا ہاں ہم اقرار کرتے ہیں۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ تم گواہ رہو میں بھی تمہارے ساتھ گواہوں میں سے ہوں کا ہما را دعوی ہے کہ اس آیت کریمہ میں جس رسول مصدق کی آمنہ کی خبر ہے اور جس پر ایمان لانے اور اس کی نصرت کر نی کا سب نبیوں سے اقرار کیا گیا تھا وہ ہمارے بعید و مولی حضرت خاتم النبیین محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔کیونکہ دوسری جگہ اللہ تعالی فرماتا ہے۔وَمَا لَكُمْ لَا تُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَ الرَّسُول يَدْعُوكُمْ لِتُؤْمِنُوا بِرَبِّكُمْ وَقَدْ أَخَذَ تا تو ان گنتم مومنین را تجدید : ، تمہیں کیا ہو گیا ہے کہ تم اللہ تعالی پر پورے طور پر ایمان نہیں لا رہے، حالانکہ یہ موجود الرسول تمہیں اپنے رب پر ایمان لانے کے لئے پیکار رہا ہے اور اس نے تم سے ایمان لانے کا میثاق لے رکھا ہے اگر تم مومن ہو۔پھر فرمایا۔الذِينَ يَتَّبِعُونَ الرَّسُولَ النَّبِيُّ الأتى الذِي يَجِدُونَهُ مَكْتُو با عِنْدَهُمْ فِي التَّوراة والانجيل (الاعراف: ۱۵۷) کہ اب رحمت انہی کے دارت وہی لوگ ہوں گے جو اس عظیم الشان رسول نبی امی کی پیروی کرتے ہیں جس کی پیشگوئی ان کے ہاں قورات ۲۵۳ اور انجیل میں درج شدہ موجود ہے۔پھر سورہ بقرہ میں فرمایا ہے وَلَمَّا جَاءَ هُم رَسُولُ مِنْ عند الله مُصَدَقَ لِمَا مَعَهُمْ نَبَذَ فَرِيقٌ مِّنَ الَّذِينَ أوتوا الكتب كتب اللَّهِ وَرَاءَ ظَهُورِهِمْ كَانَّهُم لا يعلمون - کہ جب آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم جواللہ تعالیٰ کی طرف سے اہل کتاب کی پیشگوئیوں کے رسول مصدق نہیں ظاہر ہوئے تو اہل کتاب نے کتاب الہی کو یوں نظر انداز کر دیا انہیں اس کا کچھ علم ہی نہیں۔ان آیات سے ثابت ہے کہ قرآن مجید کے رو سے آیت میثاق النبیین میں جس رسول مصدق کا ذکر ہے وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہی ہیں اس لئے کسی ناسخ قرآن رسول کے آئنے کا سوالی پیدا نہیں ہوتا۔جواب دوه اگر یہ مان لیا ہجائے کہ آیت میثاق النبيين میں رسول مصدق لما محکم سے مراد آئنڈ آنے والے رسول ہیں۔تو ظاہر ہے کہ وہ رسول قرآن مجید کی دیگر آیات کے بیان کے مطابق آنحضرت صلی الہ علیہ وسلم کے متبع اور مطیع رسول ہی ہو سکتے ہیں، نئے شارخ رسول نہیں ہو سکتے۔بھائیوں کے ہاں نہیں دو قسم کے ہیں لکھا ہے : کلیہ انبیاء بر دو قسم اند یعے بنی بالاستفاد این اند و منبوع ، وقصے دیگر