بہائیت کے متعلق پانچ مقالے

by Other Authors

Page 124 of 130

بہائیت کے متعلق پانچ مقالے — Page 124

۲۴۵ بِرَحْمَتِهِ مَنْ يَشَاءُ وَاللَّهُ ذُو الْفَضْلِ العظيمه (تقره: ۱۰۵) کہ اہل کتاب کا فراور مشرک یہ پسند نہیں کرتے کہ تم پر رائے مسلمانو ! ، تمہارے رب کی طرف سے کوئی خیرد آیات قرآنیہ) نازل ہو۔حالانکہ اللہ تعالیٰ کا کام ہے کہ جسے چاہے اپنی رحمت سے مخصوص کرنے اللہ تعالے بڑے فضلوں کا مالک ہے۔گویا اہل کتاب کو نزول قرآن مجید پر اعتراض تھا کیونکہ قرآن مجید کے نازل ہونے سے ان کی کتاب تورات و انجیل کا منسوخ قرار پا جانا لازم آتا تھا۔اللہ تعالے نے ان کو جواب دیتے ہوئے فرمایا ما نفسح من أية اوننسها نات بخير منها او مثلها، کہ ہمارا طریق تو یہ ہے کہ اگر یم کسی حکم کومنسوخ بھرائیں یا د مینوں سے بھگو دیں تو ہم اس سے بہتر یہ اس کی مامت و حکم نازل کرتے ہیں۔گویا فرمایا کہ تمہارے لئے دیکھنے والی بات تو ضرت یہ ہے کہ آیا قرآنی تعلیمات تورات کی تعلیمات سے بہتر میں یا نہیں ، یا کم از کم تمہارے خیال کے مطابق ان کی مانند ہیں یا نہیں ؟ اگر یہ شریعت اپنے احکام میں پہلی شریعت سے بہتر ہے یا اس کے گم شدہ احکام کا اعادہ اس میں ہے تو اس کے ناسخ قرار پانے پر تمہارے لئے کاروائی ہونے کی کوئی وجہ نہیں ہے۔اس بیان سے ظاہر ہے کہ آیت ما ننسخ من أية میں آیت سے قرآن مجید سے پہلے کی شرائع کی آیات و احکام مراد ہیں نہ کہ خود قرآن مجید کی آیات۔سوم - قرآن مجید کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے انا نحن نَزَّلْنَا الذِكرَ وَانَّا لَهُ لَحَفِظُونَ (الجر، کہ ہم نے اس ذکر قرآن مجید کو نازل کیا ہے اور ہم ہی اس کی حفاظت کے ذمہ دار ہیں۔جب قرآن مجید ایک محفوظ شریعت ہے تو اس میں نسخ یا اتحاد کا سوال پیدا نہیں ہوتا۔یا د رہے کہ قرآن مجید کے سوا اور کسی شریعیت کے متعلق اللہ تعالے نئے یہ وعدہ نہیں فرمایا۔کہ میں اس کی حفاظت کرونگا۔اس سے عیاں ہے کہ آیت ما ننسخ من آية میں قرآنی شریعت اور اس کی آیات کے منسوخ ہونے کا ذکر نہیں ہے۔چہارم کسی شریعت کا نسخ دو وجہ سے ہو سکتا ہے۔(1) وہ شریعت محرف و مبدل ہو چکی ہو۔اس میں انسانی دست پر نے راہ پالی ہو۔اس کے احکام میں کمی بیشی کر دی گئی ہو (ہ) وہ شریعت محدود زمانے کے لئے ہو اور آئندہ زمانہ کی ضرورت یا کے لئے اس میں علاج موجود نہ ہو۔قرآن مجید نے ہر دور مکان کی تردید کر دی ہے۔اسکی حفاظت کے لئے فرمایا إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِي كَرَوَ إِنَّا لَهُ