بہائیت کے متعلق پانچ مقالے — Page 123
۲۴۳ مشورہ ہونا مراد نہیں ہو سکتا۔کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔وَلَئِن شَعْنَا لَتَهُ حَينَ بِالَّذِي أَوْحَيْنَا اليك ثمَّ لَا تَجِدُ بِهِ عَلَيْنَا وَكِيلاه الأمَعْمَةٌ مِّنْ رَّبِّكَ إِنَّ فَضْلَهُ كَانَ عليك كبیراه رینی اسرائیل : ۸۶-۱۸۷ ترجمہ : اگر ہم چاہتے تو اس وحی کو جو تجھ پر نازل کی ہے لے جاتے پھر تجھے ہمارے خلاف کوئی مدد گار نہ ملتان ہاں ہم اپنی رحمت کی وجہ سے اس قرآن کو ہمیشہ قائم رکھیں گے گے اور یہ کچھ پر خدا کا بہت بڑا فضل ہے۔بھی قرآن مجید کے منسوب ہونے کا خیالی قرآن مجید کی خصوص کے خلاف ہے۔لہذا ہر جو البیب کے صرف یہی معنے ہیں کہ ایک ، وقت آنے والا ہے جب مسلمان قرآن سید پر عمل ترک کر دینگے یه مینه دیگه آیات و احادیث خویہ کے بھی مطابق ہیں۔الغرض سورہ سجدہ کی آیت سے نسخ قرآن کا ادعاء ثابت نہیں ہو سکتا واقعہ یہ ہے کہ بہائیوں نے حسین شریعت کے ذریعہ قرآن مجید کو شیوخ عمر ا نا چاہا تھا وہ اب شائع نہ کر سکتے۔ادھر اللہ تعالٰی سے ان کے دھونی کے فورا بعد تضرت مسیح موعود علیہ السلام کو ه درست فرما دیا تا آپ ترونی مجید کے نزدہ اور عالمگیر شریعت ہونے پر زندہ گواہ ہوں۔تیسری آیت بہائی۔قرآن مجید فرماتا ہے۔مَا نَنْسَخُ مِنْ آيَةٍ ارْ نَفْسِهَا نات بخير مِنْهَا أَوْ مِثْلِهَا وَلَمْ تَعْلَمْ أَنَّ اللهَ عَلَى كُل شَيءٍ قديره ربقرہ : ۱۰۶) اس آیت سے ثابت ہے کہ آئندہ زمانہ میں قرآن مجید کے منسوخ ہونی کی پیشگوئی موجود ہے۔احمدی۔اگر آپ آیت پر تدبر کریں تو یہ بیش یہ خود بخود زائل ہو جاتا ہے اول تو آیت میں لفظ کا شرطیہ ہے جس کے رو سے آیت کے یہ معنے ہوں گے کہ اگر ہم کوئی آیت منسوخ قرار دیدین یا اُسے ذہنوں سے اتار دیں تو اس سے بہتر یا اس کی مانند لاتے ہیں۔اس نے یہ برگر لازم نہیں آتا۔کہ واقعی طور پر قرآن مجید کی کوئی آیت کبھی منسوخ ہو جائے گی۔قدم - آیت کے سیاق و سباق سے معلوم ہوتا ہے کہ اس آیت میں جوس نسخ کا ذکر ہے اس کا قرآن مجید یا اس کی آیات سے کوئی تعلق نہیں ہے۔اس آیت سے قبل اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔مَا يَرةُ الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْ أَهْلِ الْكِتَبِ ولا المشركين أن تُنَزَّلُ منكم من خَيْرٍ مِنْ رَبِّكُمْ وَاللَّهُ يَخْتَصُّ