بہائیت کے متعلق پانچ مقالے — Page 12
در حقیقت باجیوں اور بہائیوں کے ہاں بچی کا تصور اس سے مختلف ہے جو مسلمانوں کے ہاں معروف ہے ، مگر یہ قصائد کی بحث سے متعلق ہے اسلئے آج اسے نظر انداز کیا جاتا ہے۔جناب سید علی محمود کا دعوی باب ہونے کا ہو یا واسطہ ہونے کا ہو ہر حال وہ اس وحی کے مالی نہیں جو مسلمانوں کے بانی معروف ہے۔گهر بہائی صاحبان کہتے ہیں کہ اسکے پر کوئی کہ سنتے ہی جناب مرزا حسین علی قرة العین اکٹھے ہوتے تھے۔وہ بھی تاک سید علی محمد باپ کے القائم ہوں کا اعلان نہ ہوا تھا۔بہاء اللہ اور ملا بار فروشی نے کھلے اظہار اور شریعتوں کے نسخ و فسخ کی قرانہ داد پاس کی ہے۔ہماری حقیق میں صفر ۲۶ میں قلعہ چھری سے واپسی پر پہلی دفعہ باب نے کہا تھا۔انه المهدي المنتظرة الكواكب علي موس حکومت ایران باب کے دعوئی کو حزم واحتیاط سے دیکھ رہی تھی مگر چونکہ المعروف بہاء اللہ نے قبول کر لیا تھا۔رسالہ عصر جدید میں لکھا ہے :- دشاہ ایران کا فیصلہ تھا کہ جب تک یہ تحریک ملکی امن و امان کو خطرہ میں نہ ڈال دیگی اور محق عقائد کی تحر یکی تک محدود رہے گی حکومت اس سے تعرض نہ کہ چھی جناب عبد البہاء لکھتے ہیں کہ حکومت کا یہ فیصلہ تھا :- له بین جب حضرت باپ نے اعلان امر فرمایا تو اس رقعہ حضرت بہاء اللہ کی عمر ستائیس سال کی تھی اعلان حضرت ب کی آواز سنتے ہی حضرت بہاء اللہ نے اس نئے امر کو لبیک کہا: (عمر جہد ہے (اے) بہائی صاحبان کہتے ہیں کہ اوائل میں باپ نے قائم آل محمد ہونے کا شو کی نہ کیا تھا۔چنانچہ کہ اللہ ہجری میں بدشت میں ہا بیان کی جو کا نفرنس ہوئی تھی ہی سلسلہ میں جناب عبد البہاء لکھتے ہیں:۔در شبها جمال مبارک وخاب قدوس و طاهره ملاقات می نمودند هنوز قائمیت حضرت اعلیٰ اعلان نشده بود جمال مبارک با جناب قصدس قرار بر اعلان ظهور کلی و فسخ و فسخ شرائع دادند يتذكرة الوفاء من تر جمہ۔ساتوں کو مرزا حسین علی، با محمد علی یار فروشی اور ام سلمی مادام امره متفقاً من الامن العام والراحة العمومية فلا تتصد اله الحكومة بشيء"۔(مقاله سیاح عربی فلا) گر جب تک باپ کا مخاطر این حمام میں مخل نہ ہوگا حکومت اس سے کسی قسم کا تعرض نہ کرے گی۔چنانچہ کچھ عرصہ تک یہ حالت رہی کہ فرد پیشینیہ وغیرہا کے لوگ با نیت میں اخل ہوتے رہے مگر حکومت اس میں مداخلت نہ کرتی تعلقی۔نیز ایک وقت تک کے بانی لوگ بھی اسلامی شریعیت پر عمل کرتے رہے۔جناب عبد البہاء کا قول ہے : نا نظر کیت کا نموا يحترمون المؤائة و التقاليد وايظنون انهم يقدرون بها الحقائق فلقد كانت