بہائیت کے متعلق پانچ مقالے — Page 109
۲۱۵ وجہ نہیں ہے۔امی کی تقسیم غیر طبعی ہے شمسی حسابکے مطابق ہے نہ قمری حسا کے مطابق بچنا نچہ انہیں دن کا مہینہ بنا کر جو پانچ دن بچ گئے تمہیں جناب بہا راشد نے سال اور مہینوں کے حساب سے ہی خارج کرنا ہے لکھا ہے:۔ما تحددت بحدود السنة والشهور دا قدس علی که به دن سال اور مہینوں میں شمار نہیں ہوں گے۔قرآن مجید نے بارہ مہینوں کے قانون الدین القیم قرار دیا ہے۔اسے فطرت کے مطابق ٹھہرایا ہے مگر جناب بہار نے محض قرآن کریم کی مخالفت میں بارہ کی بجائے امیش مینے تجویز کر دیئے ہیں۔جناب بہاء اللہ نے اپنی شریعت میں ان (۱۰) دسویں خصوصیت اس غلطیوں کی اصلاح کی کوشش کی ہے جو الان باجو ما نزل في البيان من محو الكتب القدس لا ) که خدا نے بیان کے حوالعتیب والے حکم سے درگزر فرما دیا ہے۔(۲) جناب باپ نے لکھا تھا کہ اگر کوئی کسی کو نہ ہی پہنچائے تو اب پان کے کہ انہیں متقال سونا خرچ کر دے جناب بہاء اللہ نے لکھا ہے :۔انه قد عفا ذلك عنكم في هذا الظهور : راقدس ۳۱۶ کہ میرے وقت میں منانے اپنے اس حکم کو معاف کر دیا ہے۔رس جناب بہاء اللہ لکھتے ہیں :- حرة عليكم السؤال في البيان عفا الله عن ذلك : ( اقدس ۳۲) کہ بیان میں کوئی بات دریافت کرنا حرام قرار دیا گیا ہے۔مگر اب اللہ تعالے نے اس حکم کو بدل دیا ہے یہ ان کے زعم میں جناب باپ سے سرزد ہوگئی تھیں۔حالانکہ دوسری جگہ وہ (۴) اس سلسلے میں ایک اور ر کی مثال جنابہ بار اللہ کے الفاظ ہی (1) خود اپنے آپ کو منزل البیان معنی بیان کو نازل کرنے والا قرار دیتے ہیں مجموعه اقدس منه، ان غلطیوں میں سے چار بطور مثال ذکر کی جاتی ہیں۔باب نے بیان میں یہ حکم دیا تھا کہ البیان کے علاوہ باقی سب کتب کو مٹا دیا جائے۔بہائیوں کے نزدیک باب کا یہ حکم دنیا میں اختلاف خصومت کی پہلی بنیاد ہے۔(المناظرات بو ، چنانچہ جناب بہار اللہ نے اس حکم کو منسوخ کر دیا اور کھا قد عفا الله عنكم ی ہے سکھتے ہیں :- قد كتب الله على كُلِّ نفس ان يحضر لدى الفرش بها عنده مما لا عدل لقانا عنونا عن ذلك نقلاً من لدقاء راقدس ) کہ اللہ نے تو یہ فرض کیا ہے کہ ہر جان بانگاہ میں اپنی بہترین یز لے کر حاضر ہو مگر ہم نے بطور فصول اس حکم سے غور کردیا ہے۔