بہائیت کے متعلق پانچ مقالے

by Other Authors

Page 108 of 130

بہائیت کے متعلق پانچ مقالے — Page 108

۲۱۳ اس جگہ یہ بھی یادرکھنا چاہئیے کہ جناب بہاء اللہ نے زنا ایسے سنگین جرم کی سزا صرف یہ تجویز کی ہے کہ نانی تو مشتقال سونا بیت العوال کو دیت کے طور پر ادا کر ہے۔لطیفہ یہ کہ آج تک بہائیوں کا رہ بیت الحال قائم ہی نہیں ہوا جہاں نہ نا کے بدلے روپیہ جمع کرانا لازم قرار دیا گیا ہے۔گویا ملی طور پر آج تک ایک دن بھی رہائی شریعت نے زنا کی سزا نہیں دی۔خواہ دو روپولی کی صورت میں ہی ہو۔کسی قدر حیرت کا مقام ہے کہ بہاء اللہ نے قتل خطاء کیلئے تو پورے صرف یہی سزا ہے کہ نو شتقال سونا بیت العدل کو ادا کر ہے۔اور طرفہ یہ ہے کہ موسوم بیت العدل ابھی تک معرض وجود میں نہیں آیا۔اس موازنہ سے عیاں ہے کہ قرآن کریم اور اسلام نے انسان کے گو شہریت کی بے نظیر حفاظت کی ہے۔اس کے بالمقابل ہائی شریعیت میں نہ صرف عوت و عصمت کی حفاظت کا انتظام نہیں بلکہ اس کے برعکس اسے قواعد موجود ہیں جن سے بے حیائی پھیلتی ہے۔کیا یہ کتاب اسلام کی منظر شرعیت کے سامنے پیش کی جاسکتی ہے ؟ جناب بہاء اللہ نے جناب باب کی تقلید میں ایک سو مشتقال ہو نا دیت مقرر کی ہے۔رشتہ ، مگر زنا کے لئے صرف (۹) نویں خصوصیت یہ قانون بنایا کہ سال کے ایشی مہینے ہونے ا متقال۔پھر اس سے بھی بڑھ کر یہ بات ہے کہ باب نے لکھا تھا۔، ومن يحزن / حدا فله ان ينفق تسعة عشر مثقالاً من الذهب (اقدس (۳۱) جو شخص کسی دوسرے کو کسی قسم کا ہنی پہنچائے تو اس پر فرض ہے کہ انمیں مثقال سونا خرچ کرے۔افسرین اجناب بہاء اللہ کے نزدیک لنا ایسی بے حیائی کی اتنی سزا بھی نہیں نینی جنتا سد باب کے نزدیک کسی کو معمولی رفع پہنچانے کی ہے۔خود تنہا بے بہاد اللہ نے کسی کا گھر جلانے والے کی یہ سزا تجویز کی ہے کہ اس شخص کو عملا دیا ہما محمد اقدس ، حالانکہ پرانے دریائی گھر ایک سو روپے اور ہر مہینے کے انہیں دن۔قرآن مجید میں اللہ تعالے نے سال کے بارے مہینے قرار دیتے ہوئے فرمایا :- إن عدةَ الشُّهُورِ عِنْدَ اللهِ اثْنَا عَشَرَ شَهْرًا في كتابِ اللهِ يَوْمَ خَلَقَ السَّمَوتِ وَالْأَرْضَ۔(سورۂ توبہ : ۳۶) جناب بہاء اللہ نے محض اس کی مخالفت کرتے ہوئے لکھا ہے :- ان عدة الشهور تسعة عشر شهرا في كتاب الله را قدس عل۲۶ الفاظ میں نقل کے باوجود بارہ مینوں کے بجائے انیس مہینے محض کے لگ بھنگ بن جاتے ہیں۔تو گویا جناب بہاء اللہ کے نزدیک اس گھر کو جلانے والا تو اس بات کا مستحق ہے کہ اسے جلا دیا جائے لیکن نے نا کا ر کو صاویت اسلام کے باعث تجویز کئے گئے ہیں۔ورنہ اس کی کوئی معقول