اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول — Page 60
60 60 سے۔سب مرد واپس چلے گئے اور انہوں نے اس زور سے حملہ کیا کہ فتح ہو گئی۔یہ ایک عورت کی ہمت اور اسکی عالی حوصلگی کا نتیجہ تھا۔اس زمانہ میں بھی عورتیں یہ کر سکتی ہیں کہ مردوں کو تبلیغ کے لئے تیار کریں۔عورت کا اثر بچوں پر ایک اہمیت جو عورت کو حاصل ہے دو مرد کو نہیں اور یہ عورت کی فضیلت ہے اور وہ یہ کہ عورت بچوں سے زیادہ باتیں منواسکتی ہے اور اولاد کی تربیت بھی بہت ضروری ہے کیونکہ بُری اولا د کی وجہ سے بھی انسان رسوا اور ذلیل ہو جاتا ہے اور نیک اولاد کی وجہ سے اس کا نام روشن ہو جا تا ہے۔یہ مت سمجھو کہ تم احمدی ہو گئیں تو کافی سے نہیں بلکہ اولاد کو بھی احمدی بنانا ضروری ہے۔کئی دفعہ ایسا دیکھا ہے کہ مسلمانوں نے عیسائی عورتوں سے شادیاں کیں اور اُن عورتوں نے مردوں کے مرتے ہی اپنی اولا د کو عیسائی بنالیا۔چنانچہ رام پور کی ریاست سنیوں کی تھی اُن میں ایک شیعہ عورت آگئی جس کی وجہ سے اس ریاست کی حکومت ہی شیعوں کی ہوگئی۔بچپن کی عمر چونکہ سیکھنے کی ہوتی ہے اس لئے جو کچھ کچھ پوچھے گا اور جو کچھ ماں سکھائے گی وہ بچے کے دل پر پتھر کی لکیر کی طرح ہو جاتا ہے اور وہ کبھی مٹائے نہیں متا۔ہندوؤں میں چونکہ بچپن سے ہی پتھروں کے آگے سجدہ کرنا سکھایا جاتا ہے اس لئے بڑے ہو کر چاہے وہ بی۔اے ، ایم۔اے بھی پاس کر لیں تب بھی وہ پتھروں کے آگے سجدہ کرتے چلے جاتے ہیں۔اسکی یہی وجہ ہے کہ بچپن کی سیکھی ہوئی باتیں عقل پر غالب آجاتی ہیں۔اب اگر وہ دلیلیں جو قرآن کریم میں ہیں ہم پڑھیں تو حیران رہ جاتے ہیں کہ کیوں تمام دنیا مسلمان نہیں ہو جاتی مگر تمام دنیا کے مسلمان نہ ہونے کی یہی وجہ ہے کہ بچپن میں ماں کی سیکھی ہوئی باتیں لوگوں کے دلوں سے مٹ نہیں سکتیں۔پس اگر ماں بے دین ہو تو وہ بہت بُرا اثر بچے پر ڈالتی ہے۔مردوں کو تو فرصت ہوتی نہیں کہ بیٹھیں بچوں کو دین کی باتیں اور نیک باتیں سکھاویں۔عورتیں دوستم کی بُری باتیں بچوں کو سکھا دیتی ہیں (۱) ایک تو مذہب کے متعلق اور دوسرے اسلام کے متعلق۔یعنی بچوں کو کہتی رہتی ہیں کہ احمدی بہت بُرے ہوتے ہیں۔انہوں نے ایک نیا مذ ہب نکال لیا ہے ہم تو وہی کریں گے جو ہمارے باپ دادا کرتے آئے اور دوسرے اسلام کے متعلق مثلا یہ سکھاتی ہیں کہ جھکا کرو اور السلام علیکم نہ کہا کرو۔تو بچے میں وہی عادتیں گھر کر جاتی ہیں۔(۳) تیسری بات یہ کہ عورتیں بچوں کو خدمت دین سے متنفر کر دیتی ہیں۔یہ سب بُرے خیال عورتیں ہی بچوں میں ڈال دیتی ہیں جس کی وجہ سے وہ دین کے نزدیک بھی نہیں جاتے۔