اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 59 of 452

اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول — Page 59

59 بعض دفعہ عورتیں اپنی محبت کی حکومت کو بڑے خطر ناک طریق سے چلاتی ہیں چنانچہ رشوتیں بھی اکثر عورتوں کی وجہ سے لی جاتی ہیں کہ جب عورتیں مردوں کو دق کرتی ہیں کہ ہمیں یہ چاہیئے یہ چاہیئے تو مرد کو مجبور نا جائز طریق سے روپیہ کمانا پڑتا ہے۔یہ عورت کا اثر ہوتا ہے۔دُنیا میں اکثر خرابیاں مرد عورت کی ضرورت پوری نہ ہونیکی وجہ سے کرتے ہیں۔کیا یہ عورتوں کی حکومت نہیں کہ انکی وجہ سے مردوں کے دین تک سلب ہو گئے اور کئی عورتوں کی وجہ سے مرد نیک ہو گئے۔یہ تو ظاہری اثر ہے مخفی اثر بھی عورتیں ڈال سکتی ہیں۔چنانچہ بعض عورتیں جب چندے کا سوال اٹھنے والا ہوتا ہے تو اسی وقت اپنی ضروریات سے آگاہ کرنا شروع کر دیتی ہیں تا کہ چندہ دینے سے وہ رہ جائے یہ خفی اثر ہے۔جس طرح یہ بداثر ڈالتی ہیں اسیطرح نیک بھی ڈال سکتی ہیں۔ایک دفعہ ایک صحابی کے گھر میں ایک مہمان آیا مرد نے کہا کہ کیا کیا جاوے۔عورت نے کہا کیا ڈر ہے ایک ہی آدمی کا کھانا ہے وہ اسے کھلا دیں۔اُس عورت نے بچوں کو تو سلا دیا اور وہ کھانا اس مہمان کے سامنے رکھ دیا۔عربوں کے ہاں یہ رواج تھا کہ جب تک گھر والے ساتھ نہ بیٹھ کر کھا دیں مہمان کھانا نہیں کھایا کرتے تھے اس عورت نے کسی طریق سے روشنی بجھا دی اور آپ دونوں اُس کے پاس بیٹھ گئے اور ایسے ہی منہ مارتے رہے گویا کہ آپ بھی ساتھ کھا رہے ہیں۔مگر اب اکثر عورتیں کہہ دیتی ہیں کہ جہنم میں جاوے مہمان ہم اپنے بچوں کو کیوں بھوکا رکھیں۔ایک عورت کا ایمان رسول کریم کی وفات کے بعد جبکہ حضرت ابو بکر صدیق کچھ غلافت کے آخری ایام تھے مسلمانوں کو عیسائیوں کے ساتھ ایک بڑی جنگ کا سامنا ہوا۔عیسائیوں کی تعداد مسلمانوں سے بہت زیادہ تھی، کئی دن تک سخت جنگ ہوتی رہی ، آخر کار عیسائیوں نے ارادہ کیا کہ یک بار حملہ کر کے اسلامی لشکر کو شکست دیدی جاوے۔چنانچہ انہوں نے آخری دن بڑے زور سے حملہ کیا اور مسلمانوں کے پاؤں اکھڑ گئے۔آخر اسی بندہ نے جس نے کفر کی حالت میں حضرت حمزہ کا کلیجہ نکال کر چہایا تھا اسلام لانے کی حالت میں ایسی ایمانی غیرت دکھائی کہ مردوں کو جنگ سے لوٹتے ہوئے دیکھ کر عورتوں سے کہا اُٹھو مردوں کا منہ کالا کر واب ہم لڑنے جاتی ہیں اور عورتوں کے ہاتھ میں لکڑیاں ، سوئے پکڑا دئے اور خیموں سے باہر نکل آئیں اور جو کوئی بھاگ کر آتا تھا اُسے کہتی تھی کہ تم جاؤ گھروں میں کھانا پکا ؤ اب ہم لڑنے کے لئے جاتی ہیں، اسوقت آدمیوں کو اس قدر شرم آئی کہ ایک صحابی کہتے ہیں کہ تلوار کا گھاؤ بہتر تھا انکی اس بات