اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول — Page 38
38 کیوں محفوظ نہ ہوتے جبکہ خدا تعالیٰ کا آپ سے وعدہ تھا کہ کوئی تمہیں مار نہیں سکتا۔آخر رسول کریم ﷺ اٹھے اور مدینہ کی طرف روانہ ہوئے۔جو صحابی آپ کے ساتھ تھے انہیں تو آپ کے زندہ ہونے کا علم ہو گیا لیکن مدینہ میں پہلی خبر پہنچ چکی تھی اس لئے مدینہ کے بچے اور عورتیں دیوانہ وار باہر نکلے۔اُس وقت جبکہ لشکر واپس آ رہا تھا ایک صحابی آگے آگے تھا۔اُس سے ایک عورت نے بے تحاشا آکر پوچھا رسول اللہ کا کیا حال ہے؟ اُس کے دل میں چونکہ رسول کریم ﷺ کے متعلق اطمینان اور تسلی تھی اسلئے اس نے اس بات کو معمولی سمجھ کر کہا تمہارا باپ مارا گیا ہے۔عورت نے کہا میں نے تم سے پوچھا ہے کہ رسول اللہ کا کیا حال ہے؟ اُس نے کہا تمہارا بھائی مارا گیا ہے۔عورت نے کہا میں پوچھتی ہوں کہ رسول اللہ کا کیا حال ہے؟ اُس نے کہا تیرا خاوند بھی مارا گیا ہے۔عورت نے کہا میری بات کا تم جواب کیوں نہیں دیتے میں پوچھتی ہوں کہ رسول اللہ کا کیا حال ہے؟ اُس نے کہا رسول اللہ زندہ ہیں۔یہ سنکر عورت نے کہا شکر ہے خدا کا اگر رسول اللہ زندہ ہیں تو ہمیں اور کسی کی پروا نہیں۔ایماندار ہو تو رسول کریم کو مقدم رکھو اس بات کو سامنے رکھ کر تم اپنی حالت کو دیکھو۔اگر پیدا ہوتے ہی بچہ مر جائے تو اس پر بین شروع کر دیئے جاتے ہیں حالانکہ وہ جانتی ہیں کہ جہاں بچہ گیا ہے وہیں اُن کو بھی جانا ہے۔اگر کچھ فرق ہے تو یہ کہ وہ پہلے چلا گیا ہے اور یہ کچھ عرصہ بعد جائیں گی۔تاہم عجیب عجیب بین کرتی ، روتی ، چلاتی اور شور مچاتی ہیں۔یہ تو آج کل کی مسلمان کہلانے والی عورتوں کی حالت ہے اور ایک وہ مسلمان عورت تھی جس کا باپ، بھائی اور خاوند مارا جاتا ہے مگر وہ کہتی ہے رسول اللہ زندہ ہیں تو مجھے کچھ غم نہیں۔یہ وہ ایمان ہے جو مسلمان ہونے کی علامت ہے پس اگر تم ایماندار ہو اور تمہیں مسلمان ہونے کا دعویٰ ہے تو خدا تعالیٰ کے احکام کے مقابلہ میں کسی بات کی پروا نہ کرو اور اُس کے حکموں پر عمل کر کے دکھاؤ۔اس بات کی ہرگتر پروانہ کرو کہ لوگ تمہیں کیا کہیں گے بلکہ اس بات کی پروا کرو کہ خدا تمہیں کیا کہتا ہے۔قبر پرستی سے بچو عورتوں میں بہت سی باتیں ایسی پائی جاتی ہیں جو شرک ہیں۔قبروں پر چڑھاوے چڑھائے جاتے ہیں ، چراغ جلائے جاتے ہیں ہنتیں مانی جاتی ہیں ، یہ سب شرک ہے خدا تعالیٰ کے مقابلہ میں کسی کو کھڑا کرنا شرک ہے جو بہت ہی بڑا گناہ ہے اور اس سے خدا تعالی کا غضب بھڑک اُٹھتا ہے۔دیکھو اگر کوئی اپنے باپ کے سامنے ایک چوہڑے کو اپنا باپ کہے تو اُسکے باپ کو کس قدر غصہ آئے گا اور وہ کس قدر