اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول — Page 37
37 ایمان داخل ہو جاتا ہے اور دین پر عمل کرتے ہیں وہ ہرگز اس بات کی پروا نہیں کرتے کہ اُن کے باپ دادا کیا کیا کرتے تھے محمد ﷺ سے بڑھ کر کسی کے باپ دادا کی کیا حیثیت ہوسکتی ہے۔آپ نے کفر سے نکال کر ایمان جیسی نعمت عطا کی اس لئے آپ سے بڑھ کر کسی کی کیا وقعت ہو سکتی لیکن افسوس کہ لوگ آپ کو چھوڑ کر باپ دادا کی فضول رسموں کے پیچھے پڑے رہتے ہیں اور چونکہ یہ باتیں زیادہ تر عورتوں میں پائی جاتی ہیں اس لئے اُن کی حالت بہت ہی قابل افسوس ہے۔ایک صحابی عورت کا نمونہ میں مثال کے طور پر بتاتا ہوں کہ وہ عورتیں جو بچے دل سے رسول کریم صلى الله پر ایمان رکھتی تھیں ان کی کیا حالت تھی۔رسول کریم ہی ہے جب دشمنوں کے تکلیفیں پہنچانے پر مکہ سے ہجرت کر کے مدینہ آگئے تو مکہ والوں نے وہاں بھی آپ کا پیچھا نہ چھوڑا اور وہاں بھی لڑائی کرنے کے لیے آگئے۔مدینہ سے چار میل کے فاصلہ پر ایک جگہ تھی جہاں لڑائی شروع ہوئی۔اگر چہ کافر بہت تھے اور اُن کے مقابلہ میں مسلمان بہت تھوڑے تھے لیکن مسلمانوں کو فتح ہوئی۔جب فتح ہوگئی تو چند لوگ جن کو رسول کریم نے ایک جگہ کھڑے رہنے کا حکم دیا تھا اور فرمایا تھا خواہ کچھ ہو تم اس جگہ سے نہ ہلنا انہوں نے کہا ہمیں لڑائی کے لئے یہاں کھڑا کیا گیا تھا جب ہماری فتح ہو گئی ہے تو پھر ہمیں یہاں کھڑے رہنے کی ضرورت نہیں۔اُن کے سردار نے کہا خواہ کچھ ہو چونکہ ہمیں کھڑے رہنے کا حکم ہے اس لئے یہاں سے نہیں جانا چاہئیے لیکن دوسروں نے کہا ہمارا کھڑا ہو نالڑائی کے لئے تھا اب جبکہ دشمن بھاگ گیا ہے تو پھر کھڑے رہنے کی کیا ضرورت ہے۔یہ کہہ کر جب وہ وہاں سے ہٹ گئے تو کافروں نے جو بھاگ رہے تھے دوبارہ یک لخت حملہ کر دیا اور ایسے زور سے حملہ کیا کہ مسلمانوں میں جو دشمن کی طرف سے مطمئن ہو چکے تھے ابتری پھیل گئی۔اس وقت رسول کریم ﷺہ زخمی ہو گئے اور آپ کے دو دانت شہید ہو گئے اور مشہور ہو گیا کہ رسول کریم ہے شہید ہو گئے ہیں۔یہ سنکر مسلمانوں کو بہت صدمہ ہو حتیٰ کہ فرائم کی وجہ سے حضرت عمر جیسے بہادر انسان سر نیچے کر کے بیٹھ گئے۔ایک صحابی اُن کے پاس سے گزرے اور پو چھا کیا ہوا۔انہوں نے کہا رسول کریم ہی تھے شہید ہو گئے ہیں یہ سنکر اُس صحابی نے کہا اگر رسول کریم ہے شہید ہو گئے ہیں تو یہاں بیٹھنے کا کیا فائدہ؟ چلو جہاں رسول کریم لے گئے ہیں وہیں ہم بھی جائیں۔یہ کہ کر وہ دشمن پر حملہ آور ہوا اور اس قدر سختی سے لڑا کہ جب اُس کی لاش دیکھی گئی تو معلوم ہوا کہ اُس پر سفر زخم لگے ہوئے ہیں لیکن رسول کریم نے محفوظ تھے اور