اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 442 of 452

اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول — Page 442

442 سے ہمارے مرد ایسے نہیں کہ وہ خود پیچھے بیٹھ ر ہیں اور عورتوں سے کہیں کہ تم آگے بڑھو۔غیر معمولی حالات میں عورتوں کی ذمہ داری کوئی ایسا وقت بھی آ سکتا ہے کہ جب مرد تمام کے تمام مارے جائیں۔اس وقت عورتوں کا کام ہے کہ وہ دشمن کا مقابلہ کرتے ہوئے اپنے خون کا آخری قطرہ تک بہادیں اور ایمان کا تقاضا بھی یہی ہے۔لیکن جب تک مرد موجود ہیں ہماری جماعت کا یہ طریق نہیں کہ وہ عورتوں سے بھی نعرے لگوائیں۔ہاں جب مرد فنا ہو جائیں تو پھر بے شک عورتیں آگے آئیں اور دین کے جھنڈے کو بلند رکھنے کے لئے اپنے خون کا آخری قطرہ تک بہادیں لیکن عام حالات میں ان کا یہ کام نہیں۔کیونکہ ان کے ساتھ حاملہ ہونے اور حائضہ ہونے کے جو عوارض ہیں وہ بتاتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں گھر بیٹھنے کے لئے بنایا ہے۔پس جب تک ایک مرد بھی زندہ ہے اس کا کام ہے کہ وہ عورتوں کی حفاظت کے لئے جان دیدے اس کے بعد عورتیں بے شک میدان میں آئیں۔کیونکہ وہ بھی خدا کی بندیاں ہیں اور دین کے جھنڈے کو بلند رکھنا ان کا بھی فرض ہے۔اس لئے وہ لڑتی ہوئی میدان جنگ میں ہی جان دیدیں لیکن دین کے جھنڈے کو سرنگوں نہ ہونے دیں۔بہر حال اس وقت مخاطب دونوں ہی ہیں۔مرد بھی میرے مخاطب ہیں اور عورتیں بھی میری مخاطب ہیں۔۔۔عورتوں میں سے بھی جو صاحب جائداد ہوں ان کو چاہیئے کہ وہ اپنی جائداد کا ایک فیصدی دیں اور جن کو خاوند کچھ رقم بطور جیب خرچ دیتے ہیں وہ اس کے برابر دیں۔اور جن کی جائداد آمد سے زیادہ ہے وہ جائداد کا حصہ دیں کیونکہ مومن قربانی کی زیادتی کو پسند کرتا ہے کمی کی طرف مائل نہیں ہوتا۔۔۔یہ وقت جماعت کے امتحان کا ہے۔ہر فرد کو کوشش کرنی چاہئے کہ وہ اس امتحان میں کامیاب ہو۔ڈیڑھ ماہ کے اندر وقف کرنے والے بھی واقفین کی صف اول میں کھڑے ہوں گے۔۔۔۔پھر میں نے توجہ دلائی تھی کہ زیادہ سے زیادہ وقتیتیں کرو اور کوئی مرد اور عورت ایسا نہ رہے جو موصی نہ ہو۔اپنے ایمان اور اخلاص میں ترقی کرو نیکی میں ایک دوسرے سے بڑھنے کی کوشش کرو۔میں یہ بھی بیان کر دینا ضروری سمجھتا ہوں کہ اس تحریک کے چندے کا دوسرے چندوں پر اثر نہیں پڑنا چاہیئے۔ایسا نہ ہو کہ ماہوار چندوں یا وصیت کے چندوں یا تحریک جدید کے چندوں میں کمی واقع ہو جائے۔اللہ تعالے کا ایک حق دبا کر دوسرا حق ادا کرنا کبھی بھی مائندے کا موجب نہیں ہوتا۔اس طرح ثواب کم ہو جاتا ہے۔۔۔۔(الفضل ۱۶۔اپریل ۹۴۷اص ا تا۶ )