اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول — Page 441
441 ناجائز استعمال کرے تو عورت کو عدالت کی رُو سے اپنے حقوق لینے کی اجازت ہے۔پس میں مردوں خصوصاً نو جوانوں کو توجہ دلاتا ہوں کہ وہ عدل قائم کریں اور اسلام کے رستے میں دیوار حائل نہ کریں۔الفضل ۳ فروری ۱۹۴۷ ص ۴) زیورات اور جائداد میں سے چندوں کی ادائیگی (۱۱ اپریل ۱۹۴۷ بمقام قادیان) زیورات اور جائداد میں سے چندوں کی ادائیگی۔۔۔ہم اکثر عورتوں کو دیکھتے ہیں کہ وہ کچھ نہ کچھ زیور ضرور رکھتی ہیں۔عورتوں کو زیور پہننے کا شوق ہوتا ہے خواہ ایک دو روپے کی چیز ہی کیوں نہ پہنیں۔اور غریب سے غریب عورت بھی آٹھ آنے کی بالی ضرور پہنتی ہے۔ہر شخص جو دیتا ہے اس کے مطابق ہی ثواب ملتا ہے۔۔۔۔۔۔تو ایک اٹھنی کی بالی پہنچنے والی ایک پائی دے کر اس کے برابر ثواب حاصل کر لیتی ہے اور وہ دونوں ثواب میں ایک جیسے شریک ہیں۔میں بیان کر رہا تھا کہ اکثر عورتوں کے پاس کچھ نہ کچھ زیور ضرور ہوتا ہے۔اگر ہم سمجھیں کہ ہماری جماعت میں ہیں ہزار عورتیں ہیں اور ہم اوسط قیمت ہر ایک کے زیور کی پچاس روپے رکھیں تو دس لاکھ روپیہ بنتا ہے اور اس طرح دس ہزار روپیہ چندہ آ سکتا ہے۔۔۔۔۔مجھے عورتوں نے لکھا ہے کہ ہم اپنے زیور بیچ کر بھی یہ رقم پوری کرنے کو تیار ہیں میں نے ان کو جواب دیا ہے کہ تم بھی اپنے حصہ کے مطابق قربانی کرو لیکن عام رقم کے پورا کرنے کے لئے یہ ہو جو تم پرنہیں ڈالا جا سکتا مرد پہلے ہیں۔اور تم بعد میں ہو۔پہلا قدم مردوں کے لئے ہے اور دوسرا قدم تمہارے لئے چونکہ مردوں کو دہری جائداد ملتی ہے اس لئے دہری قربانی کا بار بھی ان پر پڑنا چاہیئے۔باپ کے ورثہ میں دو روپے بھائی کو اور ایک روپیہ بہن کو ملتا ہے۔اس لئے چندے کے وقت بھی بھائی کو آگے آنا چاہئے نہ کہ بہن کو۔انگلستان میں یہ رواج ہے کہ وہ عزت کے ہر کام میں عورتوں کو آگے رکھتے ہیں۔ہر عزت کے موقع پر وہ کہیں گے ( (first) بیگمات پہلے چلیں۔اگر کمرے میں داخل ہونا ہو تو کہیں گے لیڈیز فرسٹ کھانے پر بیٹھیں گے تو کہیں گے لیڈیز فرسٹ۔غرض ہر کام میں وہ عورتوں کا بہت احترام کرتے ہیں۔۔۔۔۔خدا تعالیٰ کے فضل Ladies