اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول — Page 425
425 کے خاوند احمدی ہوئے اور وہ احمدی ہو گئیں یا جن کے بھائی احمدی ہوئے اور وہ احمدی ہوگئیں یا جن کے باپ احمد کی ہوئے اور وہ احمدی ہو گئیں۔یا جن کے بیٹے احمدی ہوئے اور وہ احمدی ہو گئیں۔ان عورتوں کا ایمان مرہونِ منت ہے مردوں کا۔تمھارے ہمسایہ میں ہزاروں ہزار عورتیں رہتی ہیں۔مرد عورتوں کو تبلیغ نہیں کر سکتے عورتیں ہی عورتوں کو تبلیغ کر سکتی ہیں۔اگر تم اپنے فرض کو سمجھو اور ہر سال دہلی میں دو چار سو مرد مردوں کی تبلیغ کے ذریعے احمدیت میں داخل ہوں اور دو چار سو عورتیں عورتوں کی تبلیغ کے ذریعے احمدیت میں داخل ہوں تو یہ دو چار سو مرد اور دو چار سو عورتیں ہی صرف احمدیت میں داخل نہیں ہوں گے بلکہ ان کے ساتھ ان کے بھائی بہنیں اور بیٹے اور بچے بھی احمدیت میں داخل ہوں گے اور اس طرح تبلیغ کی رفتارو گتی ہو جائے گی۔لیکن میں تم سے پوچھتا ہوں کہ کیا تم نے کبھی تبلیغ کے لئے اپنے دل میں درد محسوس کیا ہے اور کیا کبھی تم نے یہ سمجھنے کی کوشش بھی کی ہے کہ احمدیت میں داخل ہونے کی وجہ سے تم پر کیا کیا ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں۔احمد بیت اس کا نام نہیں کہ چند روپے چندہ دے دیا یا منہ پر پانی کے چند چھینٹے ڈالے اور وضو کر کے دو چارسجدے اور رکوع کردئے۔بلکہ احمدیت اللہ تعالیٰ سے ایسے تعلق کا نام ہے کہ جس کی وجہ سے اللہ تعالے سے بندے کا اتصال ہو جائے اور بندہ اللہ تعالیٰ کے پیاروں اور محبوبوں میں شامل ہو جائے۔اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں فرق نہیں کرتا۔اس کا دروازہ ہر ایک بندے کے لئے کھلا ہے۔لیکن ضرورت اس بات کی ہے کہ بندہ اپنے اندر یہ تڑپ پیدا کرلے کہ میں اللہ تعالیٰ سے ملے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا اور میری زندگی کا اصل مقصد اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرنا ہے۔رسول کریم ﷺ کے زمانہ میں جس طرح مردوں نے قربانیاں کیں اور وہ اللہ تعالیٰ کے فضلوں کے مورد بنے اسی طرح جن عورتوں نے اللہ تعالیٰ کے رستے میں قربانیاں کیں وہ بھی اللہ تعالیٰ کے فضلوں کی مورد ہنیں۔بلکہ وہ بعض باتوں میں مردوں سے بھی آگے نکل گئیں۔تفقہ میں جو درجہ حضرت عائشہ کو حاصل ہے وہ کسی مرد کو حاصل نہیں۔