اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول — Page 422
422 صلى الله صلى الله چاروں کے مرنے کی اطلاع اسے دی۔اور بعض روایات میں آتا ہے کہ اسنے اس کے تین رشتہ داروں یعنی باپ۔بھائی اور خاوند کے مرنے کی اطلاع دی لیکن ہر دفعہ اس عورت نے یہی کہا کہ میں تم سے رشتہ داروں کے متعلق نہیں پوچھتی میں تو یہ پوچھتی ہوں کہ رسول کریم ﷺ کا کیا حال ہے۔اسنے کہا کہ رسول کریم خیریت سے ہیں۔اس کے بعد پھر وہ میدانِ جنگ کی طرف بھاگ پڑی اور وہ فقرہ جو وہ کہتی تھی اس سے پرچ لگتا ہے کہ اس کے دل میں رسول کریم ہی اے کی کتنی محبت تھی۔وواحد کے میدان کی طرف دوڑی جاتی تھی اسے جو سیاہی ما اسے کہتی مافعل رَسُولُ الله (ﷺ ) ارے۔رسول کریم ﷺ نے یہ کیا کیا۔یہ فقرہ خالص طور پر عورتوں کا فقرہ ہے۔کوئی مرد اپنے پاس سے یہ فقرہ نہیں بنا سکتا کیونکہ جب کسی عورت کا بچہ یا اس کا خاوند فوت ہو جائے تو وہ کہتی ہے ارے تم نے یہ کیا کیا تم ہمیں چھوڑ کر چلے گئے۔پس یہ فقرہ کہ رسول کریم ﷺ نے یہ کیا کیا ایک زنانہ آواز ہے اور کوئی مورخ ایسا جھوٹا فقر نہیں بنا سکتا۔کیونکہ عورتوں کے سوا یہ فقرہ کسی اور کے منہ سے نہیں نکل سکتا۔وہ عورت یہ کہتی جاتی تھی کہ ہائے رسول اللہ (ﷺ) نے یہ کیا کیا الله کہ آپ شہید ہو گئے اور ہمیں چھوڑ کر چلے گئے۔اسے صحابہ کے بتا دینے پر بھی تسلی نہ ہوئی اور اصرار کیا کہ تم مجھے رسول کریم ﷺ کے پاس لے چلو۔جب اسے رسول کریم نے نظر آئے تو وہ بھاگتی ہوئی آپ کے پاس پہنچی اور آپ کا دامن پکڑ لیا۔رسول کریم ﷺ نے فرمایا۔بی بی امجھے افسوس ہے کہ تیرا باپ اور تیرا بھائی اور تیرا خاوند لڑائی میں مارے گئے۔اُس عورت نے جواب دیا جب آپ زندہ ہیں تو مجھے کسی اور کی موت کی پرواہ نہیں۔یہ وہ عشق تھا جو ان عورتوں کو پروانہ وار قربانیوں کے میدان میں کھینچے لئے آتا تھا۔جو عہد انہوں نے اللہ تعالے سے کیا اس کو سچا کر دکھایا۔جنگ سے واپسی پر رسول کریم ﷺ کی سواری کی باگ حضرت سعد بن معاذ پکڑے ہوئے فخر سے چلے آرہے تھے۔جنگ میں آپ کا بھائی بھی مارا گیا تھا۔مدینہ کے قریب پہنچ کر حضرت سعد نے اپنی ماں کو آتے ہوئے دیکھا اور کہا۔یا رسول اللہ میری ماں آ رہی ہے۔حضرت سعد کی والدہ کی عمر اسی بیاسی سال کی تھی۔آنکھوں کا نُور جا چکا تھا۔دھوپ چھاؤں مشکل۔نظر آتی تھی۔رسول کریم منانے کی شہادت کی خبر سن کر وہ بڑھیا بھی لڑکھڑاتی ہوئی مدینہ سے باہر نکلی جارہی ނ