اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول — Page 421
421 ملا۔انہوں نے اپنی ساڑھی سے ہی ایک ٹکڑا پھاڑ کر اس میں کھانا باندھا اور ساڑھی کے پھٹ جانے کی وجہ سے جہاں سے کپڑا پھاڑا تھا وہاں دوٹکڑے ہو گئے۔وہ ایک ٹکڑے کو کمر کے گرد لپیٹ لیا کرتی تھیں اس وجہ سے ان کا نام ذات النطاقین پڑ گیا۔عام طور پر ایسی پھٹی ہوئی ساڑھی لونڈیاں باندھتی تھیں۔ایک دفعہ رسول کریم ﷺ کے بعد ایک موقع پر عبداللہ بن زبیر کو کسی شخص نے کہا کہ وہ ذات النطاقین کے بیٹے ہیں یعنی لونڈی کے۔ایک صحابی نے جب یہ سنا تو اُس نے کہا تمھیں یہ طعنہ دیتے ہوئے خیال نہیں آیا کہ اس کی ماں کو ذات النطاقین کیوں کہا جاتا تھا۔جس لباس کے نام کی وجہ سے تم اسے لونڈی کا طعنہ دیتے ہو اس کی وجہ یہ تھی کہ انہوں نے اپنی ساڑھی کا ایک ٹکڑا پھاڑ کر رسول کریم نے کے لئے کھانا باندھا تھا۔پس یہ طعنہ نہیں یہ اس کی ماں کی فضلیت کی دلیل ہے۔جب رسول کریم اللہ مدینہ تشریف لے گئے تو جیسی مردوں کو خوشی تھی ویسی ہی عورتوں کو خوشی تھی۔مدینہ کی عورتیں دیوانہ وار گیت گاتی ہوئی رسول کریم ﷺ کے استقبال کو نکلیں۔وہ اللہ تعالے کا شکر ادا کرتی تھیں کہ اس نے ان کے لئے ثنية الوداع سے چاند چڑھا دیا ہے۔وہ والہانہ طور پر شعر گاتی تھیں طلع البدر علينا من ثنية الوداع اے لوگو دیکھو تو۔لوگوں کا چاند مشرق سے نکلتا ہے لیکن اللہ تعالیٰ نے ہمارا چاند ثنیۃ الوداع سے چڑھا دیا۔اس کے بعد مدینہ کی مسلمان عورتوں نے اپنی متواتر قربانیوں سے شان دار مثالیں قائم کیں۔قربانی کی وہ مثالیں جو صحابیات نے قائم کیں ان کی نظیر آج تک کسی قوم کی عورتوں میں نہیں ملتی۔اُحد کی جنگ میں جب رسول کریم مہ کے شہید ہونے کی خبر پھیل گئی اور جب کمزور اور بزدل لوگ میدانِ جنگ سے بھاگ کر مدینہ کی طرف آرہے تھے۔مدینہ کی عورتیں اُحد کے میدان کی طرف دیوانہ وار دوڑی جاتی تھیں اور بعض عورتیں تو میدانِ جنگ تک جاپہنچیں۔ایک عورت کے متعلق آتا ہے کہ جب وہ میدانِ جنگ میں پہنچیں تو انہوں نے ایک مسلمان سے رسول کریم ﷺ کی خیریت کے متعلق پوچھا تو اس شخص نے جواب دیا کہ بی بی تمھارا باپ مارا گیا ہے۔اسنے کہا میں تم سے اپنے باپ کے متعلق نہیں ہر چھو رہی میں تو رسول کریم کے متعلق پوچھتی ہوں۔بعض روایتوں میں آتا ہے کہ اس شخص نے اس کے باپ، بھائی، بیٹا اور خاوند