اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول — Page 387
387 اندر زندہ رہنے کی تلقین کرتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ اسلام نے خود کشی سے منع کیا ہے۔اگر انسان کو کھانے پینے کے لئے ہی پیدا کیا گیا ہے تو کیا وجہ ہے کہ پھر اس کو خود کشی پر سزا ملتی ہے؟ ایک انسان کی اپنی مرضی ہے خواہ وہ کھانے پینے کے لئے زندہ رہے خواہ زندہ نہ رہے اُس کو اس دنیا سے جدا ہونے پر سزا دینے کی وجہ کیا ہے؟ یہی اور صرف یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو اس لئے پیدا کیا ہے کہ اِس دُنیا میں انسان اگلے جہان کے لئے تیاری کرے۔اگر وہ اگلے جہان کے لئے تیاری کرنے میں ستی یا غفلت کرتا ہے اور اس وقت کو ضائع کر دیتا ہے تو وہ مُجرم ہے۔کیونکہ یہ وقت ایسا ہی ہے جس طرح سکول میں طالب علم کی پڑھائی کا وقت ہوتا ہے۔اگر کوئی طالب علم کلاس سے غیر حاضر رہے تو اُس کو سزاملتی ہے کہ اُس نے پڑھائی کے وقت کو ضائع کیا اور تعلیم حاصل کرنے میں کوتا ہی کی۔اسیطرح اگر کوئی شخص اس دُنیا کی زندگی میں انگلی زندگی کے لئے تیاری نہیں کرتا تو وہ سزا کا مستحق ہے کہ اپنے اپنے وقت کو ضائع کر دیا۔پس انسان کے لفظ میں خدا تعالی نے اس طرف توجہ دلائی ہے کہ تمہارا نام انسان اس لئے رکھا گیا ہے کہ تم دو محبتیں اور دو تعلیق پیدا کرو۔ایک خدا سے محبت کرو اور اس سے تعلق پیدا کرو اور دوسرے بنی نوع انسان سے محبت اور اس سے تعلق پیدا کرو۔عبادت کے جتنے حصے ہیں وہ سارے کے سارے پہلی شق کے ساتھ تعلق رکھتے ہیں۔یعنی خدا تعالیٰ سے محبت کرنے کے ساتھ اُن کا تعلق ہے اور باقی جتنے اس قسم کے احکام ہیں کہ جھوٹ نہ بولو ، چوری نہ کرو، خیانت نہ کرو، فریب نہ کرو، دھوکا نہ دو، غیبت نہ کر، چغلخوری نہ کرو، ترش روئی سے پیش نہ آؤ ، ہشاش بشاش رہو ، نیک سلوک کرو، بزرگوں کی عزت کرو، اپنے اموال میں مستحقین کا حصہ قائم کرو، دوسروں کے دکھوں اور غموں میں شریک ہوو، عدل و انصاف کا معاملہ کرو، رشتہ داروں سے نیک سلوک کرو، یہ سارے کے سارے احکام ایسے ہیں جو بنی نوع انسان سے تعلق رکھتے ہیں۔پس انسان اس وجود کا نام ہے جود و محبتیں اور دوم تعلق رکھنے والا ہو۔ایک خدا سے اور دوسرے بنی نوع انسان سے۔اگر یہ دونوں باتیں اس میں پائی جاتی ہیں تو وہ انسان ہے۔اور اگر یہ دونوں باتیں نہیں پائی جاتیں تو وہ حیوان ہے خواہ اس کی شکل انسانوں جیسی ہو۔کیونکہ خالی شکل کوئی چیز نہیں۔صرف حقیقت ہی ہے جو انسان کو انسان بناتی ہے ورنہ خالی شکل تو ایسی ہی ہے جیسی کسی چیز کی تصویر ہوتی ہے جس کی کوئی حقیقت نہیں ہوتی۔بڑے سے بڑے پہلوان کی تصویر ایک بچہ پھاڑ کر پھینک سکتا ہے۔اگر رستم کی تصویر کاغذ پر بنی ہوئی ہوتو دو سال کا بچہ آسانی سے اُسے پھاڑ سکتا ہے۔پس وہ انسان جس