اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول — Page 386
386 مہیا کرنے ، سیر و تفریح کرنے اور دُنیا کی لذات حاصل کرنے میں ہی زندگی سمجھتے ہیں اور اُخروی زندگی سے اُن کا کوئی تعلق نہیں ہوتا بلکہ ان کی ساری کی ساری خواہشات اس دُنیا کی زندگی سے وابستہ ہوتی ہیں مجھے اس پر تعجب آتا ہے۔جس طرح ہر انسان موت سے ڈرتا ہے اور اس سے بچنے کی کوشش کرتا ہے اور جس طرح موت کو اپنے سے دور رکھنے کے لئے ایک انسان ہزاروں اور لاکھوں روپے خرچ کرتا ہے۔اگر ہماری زندگی صرف اسی دنیا کے ساتھ وابستہ ہے تو کیا وجہ ہے کہ وہ موت سے بچنا چاہتا ہے۔ہمیں اس زندگی میں ہزار ہا بلکہ کروڑہا انسان ایسے نظر آتے ہیں جن کے پاس دنیا کے بہترین سامانوں سے مال و دولت ، آرام و آسائش اور اس دُنیا کی باقی لذتوں سے کچھ بھی موجود نہیں مگر باوجود اس کے وہ اس دُنیا میں زندہ رہنا چاہتے ہیں۔ان کے اندر اس خواہش کا پایا جاتا بتاتا ہے کہ کسی اور اہم مقصد کو پورا کرنے کے لئے ان کو پیدا کیا گیا ہے۔اگر کسی اور اہم مقصد کے لئے ان کو پیدا نہیں کیا گیا تو پھر وہ کونسی چیز ہے جو باوجود تکالیف کے ان کو اپنی طرف کھینچ لیتی ہے اور زندہ رہنے کی اور موت سے بھاگنے کی تلقین کرتی ہے۔پس یہ وہی خواہش اور وہی جس ہے جو خدا تعالی نے قرآن مجید میں بیان فرمائی ہے کہ ماطلقت الجن والانس الا لیجنڈ ون کہ جن و انس کو صرف اس لئے پیدا کیا گیا ہے تا کہ وہ عبادت الہی میں اپنا وقت گزاریں اور آئندہ زندگی کے لئے روحانی آنکھیں پیدا کریں جو خدا تعالی کو دیکھنے کے قابل ہوں۔خدا تعالی قرآن مجید میں فرماتا ہے من گان می طلہ اعظمی تصوفی لاخرة اٹھی۔یعنی جو شخص اس دنیا میں اندھا ہے اور اس کی روحانی آنکھیں نہیں جو خدا تعالی کو دیکھ سکیں آخرت میں بھی وہ اندھا ہی اُٹھایا جائے گا۔کیونکہ آخرت میں اس کی روحانی آنکھیں اسی دنیا کی رؤیت الہی سے پیدا ہوں گی۔پس جس نے اس دنیا میں خدا تعالی کو دیکھنے والی روحانی آنکھیں پیدا نہ کی ہوں گی وہ اگلے جہان میں بھی نا بینا اُٹھایا جائے گا۔اور خدا تعالیٰ کو نہیں دیکھ سکے گا۔قرآن مجید میں آتا ہے کہ اس قسم کے لوگ جب اندھے اُٹھائے جائیں گے تو وہ کہیں گے ہمیں کیا ہو گیا ہے کہ کچھ نظر نہیں آتا۔تو خدا تعالی ان کو یہ جواب دے گا کہ تم پچھلے جہان میں اندھے تھے اور تم نے میرے دیکھنے والی آنکھیں پیدا نہیں کیں جو اسی جہان میں پیدا ہوتی ہیں اس لئے اب تم مجھے نہیں دیکھ سکتے۔اُس وقت ایسے لوگ کہیں گے کہ اگر ہم تجھے دیکھنے کے قابل نہیں تو ہماری اس زندگی کا فائدہ ہی کیا ہے۔پس یہ خدا سے تعلق پیدا کرنے اور دائی زندگی حاصل کرنے کی خواہش انسان کے اندر مخفی ہے جسے یہ ظاہر میں بھلا بیٹھا ہے۔مگر یہی خواہش اس کو اندر ہی