اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول — Page 374
374 سینما میں دے دیتی ہیں۔حقیقی روح ایمان کی ابھی تم کو بھی حاصل نہیں ہوئی۔تم میں سے کوئی عورت علمی بات کرنے کے قابل نہیں۔کسی مجلس میں بول نہیں سکتی۔تم گھر کے کاموں سے فارغ ہو کر اپنے بچے ہوئے اوقات کو جو تم خدا کو دے سکتی تھیں جب خدا کو دینے کی بجائے ریڈ یونکر میراثیوں اور کچلیوں کو دے دیئے تو خدا کے گھر میں تمہارے لئے کیا حصہ ہو گا۔تمہاری نسلیں کس طرح اصلاح پذیر ہوں گی۔آئندہ نسلوں کی اصلاح کا کون ذمہ دار ہوگا۔رسول کریم ﷺ تو فرماتے ہیں کہ تم شادیاں کرو تا تمہاری نسل بڑھے اور اسلام ترقی کرے۔مگر ایسی نسل سے کیا فائدہ جو اسلام کے سپاہی نہ ہوں۔پھر تعلیم جو تم پاتی ہو اس سے تمہارا مقصد نوکری کرنا ہوتا ہے۔اگر نوکری کروگی تو بچوں کو کون سنبھالے گا ؟ خود تعلیم انگریزی بُری نہیں لیکن نیت بد ہوتی ہے۔اور اگر نیت بد ہے تو نتیجہ بھی بد ہو گا۔اگر غلط راستے پر چلو گی تو غلط نتیجے ہی پیدا ہوں گے۔جب لڑکیاں زیادہ پڑھ جاتی ہیں تو پھر اُن کے لئے رشتے ملنے مشکل ہو جاتے ہیں۔ہاں اگر لڑکیاں نوکریاں نہ کریں اور پڑھائی کو صرف پڑھائی کے لئے حاصل کریں۔اگر ایک لڑکی میٹرک پاس ہے اور پرائمری پاس لڑکے سے شادی کر لیتی ہے تو ہم قائل ہو جائیں گے کہ اُس نے دیانتداری سے تعلیم حاصل کی ہے۔یہ ساری باتیں لجنہ سے تعلق رکھتی ہیں جن کی وہ اصلاح کرے۔مرکزی لجنہ کی سیکرٹری تمام محلہ جات سے رپورٹ لے کر مجھے دکھائے۔اور میں یہ قانون بنا تا ہوں کہ مہینے میں کم از کم ایک دفعہ پافی الحال دو ماہ میں ایک دفعہ قادیان کی سب عورتیں اکٹھی ہوں۔اور اُن کو غور کرنا چاہیئے کہ ہمارے محلہ میں کون کون سے نقائص ہیں اور ان کو کیسے دُور کیا جاسکتا ہے۔محلہ کی پریزیڈنٹ اور سیکرٹری کا فرض ہوگا کہ وہ سب عورتوں کو جلسہ میں شریک کرے۔اگر تم صرف پچاس فیصدی عورتوں کو جلسہ میں لاؤ گی تو باقی پچاس فیصدی عورتوں کو تم مار رہی ہوگی۔کیونکہ وہ اپنے اخلاص میں کم ہوتی جائیں گی۔پندرہ روزہ جلسہ محلہ کا ہوا اور پندرہ روز و مرکز کا۔ایک جمعہ یا ہفتہ کو حملہ کا جلسہ ہو اور ایک ہفتہ مرکز کا۔کام کو باقاعدگی سے کرنے سے ہی فائدہ ہوگا۔تھوڑا کام کرو اور اس کی عادت ڈالو۔پھر اس کو اور بڑھاؤ اور بڑھاؤ۔ہر عورت سے عہد لیا جائے کہ وہ لجنہ کے جلسہ میں شامل ہونے کے لئے گھر سے نکلتے وقت کسی اور کے گھر نہ جائے اور اپنے کام کو پورا کرے تا کوئی مرد یہ نہ کہہ سکے کہ بعد کے جلسہ کے بہانے سے عورتیں بے فائدہ دوسرے گھروں میں پھرتی ہیں۔( از اخبار الفضل ۲۴ مئی ۱۹۴۴، نمبر ۱۲۰ جلد۳۲)