اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول — Page 364
364 حضرت ابوطلحہ رسول کریم اللہ کے عزیز صحابی تھے۔جنگ اُحد میں جب حضور چند دوستوں کے ساتھ اکیلے رہ گئے تو حضرت طلحہ حضور کے سامنے کھڑے ہو گئے اور حضور کے منہ کے سامنے اپنا ہاتھ رکھ دیا۔دشمن نے اس قدر تیر پھینکے کہ اُن کا ہاتھ شل ہو گیا۔کئی سال کے بعد کسی نے اُن کا ہاتھ دیکھا تو کہا۔ٹھنڈا۔حضرت الله ابوطلحہ نے کہا میرے لئے ساری برکتوں کا موجب یہ ہاتھ ہے جنگ اُحد میں جب رسول کریم ہے پر دشمن نے وار کیا تو میں نے یہ ہاتھ حضور کے منہ کے آگے رکھ دیا۔وار ہوا تو میرا ہاتھ چھلنی ہو گیا۔کسی سے پوچھا آپ کو درد نہیں ہوا تھا؟ کہنے لگے اُس وقت تو میرے منہ سے سی تک نہیں نکلی۔درد تو ہوتا تھا مگر میں اس ڈر کے مارے کہ کہیں میرا ہاتھ نہ بہل جائے رسول کریم نے کو کوئی تکلیف نہ پہنچ جائے کسی تک نہیں کرتا تھا۔تو اللہ تعالیٰ کی راہ میں گالیاں کھانا ، ماریں کھانا اور بے عزتی برداشت کر نا رتبہ کو حاصل کرنا ہے۔اب میں اختصار کے ساتھ اس سورۃ کے متعلق جو میں نے ابھی پڑھی ہے کچھ باتیں کہنی چاہتا ہوں اللہ تعالے اس سورۃ میں فرماتا ہے کہ اے رسول اِنا اَعْطَيْنَاكَ الْكَوْثَر ہم نے تجھ کو کوثر عطا فرمائی۔کوثر کے معنے میں کثرت بھلائی اور ایسا شخص جو بہت صدقہ و خیرات کرنے والا ہو۔پس اس کے معنے یہ ہوں گے کہ اے محمد ہے ہم نے آپ کو کوثر عطا فرمائی ہے۔یعنی ہر وہ چیز جو دنیا کی نعمت ہو سکتی ہے آپ کو دی ہے۔ہم دیکھتے ہیں کہ یہ سورۃ ایسے وقت میں نازل ہوئی جبکہ رسول اللہ نے کے ساتھ بہت کم لوگ تھے۔آپکے ملنے جلنے والے ،رشته دار ، عزیز سب مخالف تھے۔دشمنوں کی تعداد بہت زیادہ تھی۔دشمن اتنے طاقتور تھے کہ کوئی خیال بھی نہیں کر سکتا تھا کہ اللہ تعالے آپ کو ترقی دے گا۔اس وقت اور ایسی حالت میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اِناً أَعْطَيْنَاكَ الْكَوْثَر۔ہم نے تجھ کو ہر نعمت بڑی تعداد میں دی ہے۔یہ اس وقت کا الہام ہے جبکہ مسلمان بہت تھوڑی تعداد میں تھے۔ان کے لئے گلیوں میں چلنا پھرنا بھی مشکل تھا۔خدا تعالیٰ نے اس وقت رسول کریم سے وعدہ کیا کہ ہم تجھے بہتات دیں گے اور ترقی دیں گے۔حضرت عمر اس وقت تک ایمان نہیں لائے تھے۔ایک دن وہ گھر سے اس امر کا ارادہ کر کے نکلے کہ میں نعوذ بااللہ رسول اللہ ﷺ کو قتل کر دوں گا راستے میں کسی نے پوچھا عمر یہ تلوار لگائے کہاں جارہے ہو؟ کہنے لگے محمد (ﷺ) کو مارنے جارہا ہوں۔اس نے کہا تمھارے بہن اور بہنوئی مسلمان ہو چکے ہیں پہلے ان کو قتل کرو۔حضرت عمر نے کہا ہیں یہ بات ہے ! حضرت عمر لوٹے اور اپنی بہن کے گھر کی طرف پہلے۔ان کا دروازہ بند تھا۔وہ کسی سے قرآن سن رہے صلى الله