اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 363 of 452

اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول — Page 363

363۔جن کو ان قواعد کے ماتحت بیٹھنے کا موقع نہ مل سکتا ہو آئندہ وہ نیچے بیٹھا کریں۔اس موقع پر افسر صاحب جلسہ سالانہ کی طرف سے رقعہ پیش کیا گیا کہ کل اور آج سیج پر کھانا نہیں کھایا گیا اور نہ ہی چائے تقسیم ہوئی ہے) حضور نے فرمایا :۔یہ خوشی کی بات ہے کہ اس دفعہ کھانا نہیں کھایا گیا۔مگر اس قسم کی کوئی ضرورت نہیں ہوتی۔جو کام انسان خدا کی خاطر کرتا ہے اس پر جو اعتراض کئے جائیں وہ انسان کو بخوشی برداشت کرنے چاہئیں۔اللہ تعالے کی خاطر کام کرنے والا اعتراضوں پر خوش ہوتا ہے نہ کہ ناراض۔پس اعتراض ایک کان سے سننے چاہئیں دوسرے کان سے نکال دینے چاہئیں۔دین میں خدا کی خاطر گالیاں سننے سے بڑھ کر اور کیا خوشی ہوسکتی ہے۔سچا احمدی تو وہی ہے جو خدا کی خاطر اعتر انسوں کو برداشت کرتا ہے۔حضرت خلیفہ اول کے زمانہ میں کسی دوست نے ایک نیک تحریک جاری کی۔کچھ عرصہ کے بعد اُن سے پو چھا گیا کہ کام کیسا ہے؟ انہوں نے جواب دیا کہ اچھا کام نظر نہیں آتا۔معلوم ہوتا ہے کہ خدا کو پسند نہیں کیونکہ نہ کسی نے گالی دی اور نہ اعتراض کیا۔تو خدا کی خاطر جو تحریک ہوتی ہے اس پر ضرور اعتراض ہوتے ہیں۔اُن پر یہ انہیں منانا چاہیئے۔پھر کچھ عرصہ کے بعد وہ کہنے لگے مبارک ہو یہ تحریک مبارک ہے۔گالیوں سے بھرا ہوا ایک خط آیا ہے۔تو خدا کی خاطر اعتراضات کو برداشت کرنا حقیقی قومی ترقی کی رُوح ہے۔اعتراضات کا فورا جواب دینا تھڑا دلی کی علامت ہے۔مولوی بُرہان الدین صاحب سلسلہ کے بزرگوں میں سے تھے۔۱۹۰۳ء کا واقعہ ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام سیالکوٹ تشریف لے گئے۔بڑاشان وار استقبال ہوا۔لیکن وہاں دشمنوں نے گالیاں بھی دیں۔جب حضور واپس آنے لگے تو لوگ پتھر مارنے لگے۔پتھروں کی کثرت کی وجہ سے گاڑی کی کھڑکیاں بند کر دی گئیں۔مولوی صاحب بیچارے بوڑھے آدمی تھے۔وہ ان لوگوں کے قابو چڑھ گئے۔کبھی ڈاڑھی کھینچتے ، کبھی ملتے مارتے، کبھی دھکے دیتے، وہ چلتے جائیں اور کہتے جائیں" سبحان اللہ ساڈیاں ایسیاں قسمتاں کتھوں“۔آخر لوگوں نے پکڑ کر اُن کے منہ میں گوبر ڈال دیا تو کہنے لگے۔”سبحان اللہ ساڈی قسمت وچ ایہ نعمتاں کتھوں۔تو مومن پر دین کی وجہ سے جو اعتراض کیا جاتا ہے وہ اُس کی نجات کا موجب ہوتا ہے اس سے اُسے گھبرانا نہیں چاہیئے۔