اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 315 of 452

اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول — Page 315

315 ہر جگہ لجنہ قائم ہو اور سب بالغ احمدی عورتیں اُس میں شامل ہوں اقتباس از خطبه جمعه فرموده ۲۸ اکتوبر ۱۹۳۸ء بمقام نئی دہلی ) جماعت کے تینوں طبقوں یعنی مردوں، عورتوں اور بچوں کو اپنی اپنی تنظیم میں منسلک ہو کر صحیح رنگ میں تربیت حاصل کرنی چاہیئے۔اس تحریک کے تین بڑے حصے ہیں۔اوّل مردوں کی اصلاح دوسرے عورتوں کی اصلاح اور تیسر کے بچوں کی اصلاح۔دنیا میں کوئی قوم کامیابی حاصل نہیں کر سکتی جب تک کوئی مقصد اُس کے سامنے نہ ہو اور اس کے لئے مرد، عورت اور بچے سب مل کر کام نہ کریں۔پس ہر جماعت کا فرض ہے کہ اپنے ہاں کے مردوں بمورتوں اور بچوں کی اصلاح کرے۔عورتوں کی اصلاح کے لئے لجنہ کا قیام نہایت ضروری ہے لیکن مجھے افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ اسے فرض کفایہ سمجھ لیا گیا ہے۔چند عورتیں لجنہ میں شامل ہو جاتی ہیں اور باقی اپنے لئے اس میں شامل ہونا ضروری نہیں سمجھتیں۔پس ضرورت ہے کہ ہر جگہ لجنہ اماءاللہ قائم ہو اور بالغ عورتیں اس میں شامل ہوں اور کوئی ایک عورت بھی ایسی نہ رہے جو اس سے باہر ہو یہی ایک ذریعہ ہے جس سے عورتوں کی اصلاح ہو سکتی ہے۔دہلی کے متعلق مجھے رپورٹوں سے معلوم ہوتا رہتا ہے کہ یہاں صرف دس بارہ عورتیں جمع ہوتی ہیں اور وہی لیکچر دے لیتی ہیں حالانکہ جب تک ایک عورت بھی باہر ہے اس وقت تک ہماری تنظیم مکمل نہیں ہو سکتی۔لجنہ میں داخلہ کو اگر ہم نے ضروری قرار نہیں دیا تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ عورتیں اس میں شمولیت کو غیر ضروری سمجھ لیں بلکہ ہمارا مقصد یہ ہے کہ وہ اپنی مرضی اور خوشی سے اس میں شامل ہوں اور اس طرح انہیں ثواب اور اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل ہو۔اس کی ایسی مثال ہے جیسے رسول اللہ ﷺ نے نوافل کو قرب الہی کا ذریعہ بتایا ہے لیکن آپ نے یہ بھی فرمایا ہے کہ ہم نوافل کے متعلق کوئی پابندی عائد نہیں کرتے۔اسی طرح مثلاً میری خواہش یہی ہے کہ میرے بچے سرکاری ملازمت اختیار نہ کریں لیکن میں نے اُن سے کبھی ایسا کہا نہیں۔کیونکہ اگر وہ میرے کہنے سے ایسا کریں گے تو اس کا ثواب مجھے ملے گا نہ کہ اُن کو۔یہی فائدہ اُمت کو پہنچا نا رسول کریم والے کے مد نظر تھا اور اسی لئے آپ نے نوافل کے متعلق کوئی پابندی عائد نہیں کی۔“