اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول — Page 314
314 صلى الله دفعہ جب کوئی عورت اپنے خاوند کی شکایت رسول کریم ﷺ کے پاس لاتی تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بڑے زور سے اس کی تائید کیا کرتیں اور بار بارفرما ہیں کہ حقوق تلف ہورہے ہیں ایسا نہیں ہونا چاہیئے۔یہاں تک کہ رسول کریم ﷺ بھی بعض دفعہ فرماتے کہ عائشہ تم تو عورتوں کی بڑے زور سے حمایت کرتی ہو پھر بھی ان کے کاموں میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بڑا حصہ لیتی تھیں۔ایک دفعہ رسول کریم ﷺ نے ارادہ فرمایا کہ اعتکاف بیٹھیں۔حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کواس کا علم ہوا تو انہوں نے اسی وقت مسجد میں خیمہ جالگایا باقی امہات المومنین نے یہ دیکھا تو انہوں نے بھی اپنے اپنے خیمے مسجد میں آکر لگا دیئے۔رسول کریم ہے جب مسجد میں تشریف لائے تو آپ دیکھتے ہیں کہ جس طرح کہیں فوج اُتری ہوتی ہے اسی طرح مسجد میں خیمے لگے ہوئے ہیں۔آپ نے فرمایا یہ کیا ہے؟ صحابہ نے عرض کیا یہ امہات المومنین کے خیمے ہیں جو انہوں نے مختلف ہونے کے لئے لگائے ہیں۔آپ نے فرمایا اٹھا دو سب کو۔اگر یہ خیمے یہاں لگے رہیں تو لوگوں کو نماز پڑھنے کی جگہ نہیں ملے گی۔حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا عورتوں کے حقوق کا ہمیشہ خاص خیال رکھا کرتی تھیں۔صلى الله مگر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے متعلق ہی آتا ہے کہ رسول کریم ﷺ کی وفات کے بعد ایک موقع پر آپ نے فرمایا اگر عورتوں کے رسول کریم ہے کے زمانہ میں ویسے ہی حالات ظاہر ہوتے جیسے آج کل ظاہر ہیں تو رسول کریم نے عورتوں کو مسجد میں نماز پڑھنے سے روک دیتے۔اب یہ بالکل قریب زمانہ کی بات ہے۔صلى الله زیادہ سے زیادہ رسول کریم ﷺ کی وفات کو تمیں چالیس برس ہوئے ہوں گے مگر آپ فرماتی ہیں اگر آج سے چند سال پہلے یہ حالت ظاہر ہوتی تو رسول کریم ﷺ عورتوں کو مساجد میں آنے کی ممانعت فرما دیتے۔آپ نے جواجازت دے رکھی تھی اسے منسوخ فرما دیتے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ بعض حدیث العہد عورتیں یا غیر قوموں کی عورتیں پردہ میں پوری احتیاط لموظ نہیں رکھتی ہوں گی اور لوگ اعتراض کرتے ہوں گے جس پر آپ نے یہ فرمایا۔جیسے قادیان میں بھی بعض ایسی باتوں پر لوگ اعتراض کر دیا کرتے ہیں مگر باوجود حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے اس اعتراض کے وہ زمانہ خیرالقرون ہی کہلاتا ہے کیونکہ انہوں نے اصلاحی پہلو سے اعتراض کیا تھا یہ نہیں کہا کہ قوم گندی ہوگئی۔مگر اسکے یہ معنے نہیں کہ ان چیزوں کو قائم رکھا جا تا بلکہ ہمیں ان امور کی اصلاح کی فکر کرنا چاہیئے اور وہ اصلاح اسی رنگ میں ہوسکتی ہے کہ نوجوانوں کو اس امر کی تلقین کی جائے کہ وہ اپنے اندر ایسی رُوح پیدا کریں کہ اسلام اور احمدیت کا حقیقی مغز انہیں میتر آ جائے۔۔۔۔۔۔" الفضل ۱۰۔اپریل ۱۹۳۸ء صفحہ ۳)