اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول — Page 311
311 اعلیٰ تعلیم پاخانہ بن کر نکل جائے گی جس سے تم بھی بھا کوئی اور لوگ بھی۔پس اپنے اندر خدا کی محبت پیدا کرو۔تم میں کتنی ہیں جن کو خدا سے محبت ، بچوں اور خاوندوں کی محبت سے زیادہ ہے؟ ایمان سے بتاؤ اگر تمہارے بیچے قربانی کے لئے بلائے جائیں تو تم خوشی سے پیش کروگی ؟ دیکھو خنساء ایک عورت تھیں وہ بہت مال دار تھیں۔اُن کے خاوند نے اُن کی تمام دولت جوئے میں برباد کر دی اور وہ بار بار اپنے بھائیوں سے بہت دولت لائیں اور اُن کے خاوند نے برباد کر دی اور خاوند جوانی میں ہی مر گیا۔اُن کے چارلڑ کے تھے اُن کو پالا۔بڑھاپے میں اسلام لائیں۔ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک لڑائی ہوئی سب سپاہی قسم کھا کر گئے کہ فتح لے کر آئیں گے یاد ہیں مرکز ڈھیر ہو جائیں گے۔خنساء نے اپنے چاروں بیٹوں کو بلا کر کہا اور ان کو اپنے احسان یاد دلائے کہ دیکھو میں جوانی میں بیوہ ہوئی تمہارا باپ جواری تھا اور میری تمام دولت کھا چکا تھا اور میں نے محنت کر کے تمہیں پالا تھا آج میں تم سے کہتی ہوں کہ تم جنگ میں جاؤ یا تو فتح کر کے آنا یا اپنی جانیں وہیں دے دینا دشمن کو نا کامی کی پیٹھ نہ دکھانا۔بیٹوں کو رخصت کر کے خدا کا فرض ادا کیا۔پھر جنگل میں جا کر خدا کے حضور نہایت گریہ وزاری سے دُعا کی اور مامتا کا حق ادا کیا۔خدا تعالیٰ نے شام کو فتح دیدی۔اس وقت بھی محمد شریف ایک لڑکا گجرات کا رہنے والا ہے جہاں وہ رہتا ہے وہاں لڑائی ہے۔انگریزوں کے قونصل نے اُسے بلا کر کہا کہ تم یہاں سے چلے جاؤ تا کہ تمہیں کوئی تکلیف نہ پہنچے۔اس نے جانے سے انکار کیا۔قونصل نے کہا ہم تمہیں سرکاری خرچ پر پہنچا دیں گے لیکن اسنے کہا میں یہاں مرنے ہی کو آیا ہوں آخر اسکو وہاں سے زبردستی باہر بھجوایا گیا۔پس اگر تمہارے ہمسایہ کے بچے ایسا کرتے ہیں تو تم اس سے خوش مت ہو جاؤ بلکہ کوشش کردو کہ تمہارا اپنا بچہ بھی ایسا کرے۔دیکھو میں نے چھوٹی چھوٹی تحریکیں کی ہوئی ہیں مثلا ایک کھانا کھاؤ ، سادہ زندگی بسر کرو مگر ابھی بہت سے مرد عورت اور لڑکیاں ہیں جو اس تحریک پر عمل نہیں کر ر ہیں۔غریب لوگ تو پہلے ہی ایک کھانا کھاتے ہیں پس غریبوں کے لئے تو یہ مفت کا ثواب ہے۔میں نے تحریک کی تھی کہ گوٹہ کناری مت لگاؤ مگر جو پہلے کسی کے پاس ہوں اُن کو سوائے شادی بیاہ کے مت پہنو۔بعض غریب عورتیں سوال کرتی ہیں کہ جھوٹا گوٹہ اور ٹھپہ لگا ئیں ؟ دیکھونچے ہونے لگانے والیاں تو پھر بھی کچھ مال دار ہوتی ہیں مگر جھوٹا لگانے والی تو اس بات کا ثبوت دیتی ہے کہ وہ غریب ہے پھر بھی فضولی سے باز نہیں آئی۔دیکھو ایک ایک پیسہ کی قدر کرنی چاہیئے۔پیسوں سے