اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 294 of 452

اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول — Page 294

294 دینی پڑے گی۔اُسی زیور کی جائداد خرید لوتو تمھاری آمد کا حصہ ہو جائیں گے۔تم بھی آسانی سے خرچ کر سکوگی اور دین کی راہ میں بھی خرچ کرنے کی سہولت ہوگی اور تم مل کر بھی جائداد بناسکتی ہو۔جہاں لجنہ ہو وہاں لجنہ والیاں کوشش کریں۔جہاں لجنہ نہ ہو وہاں لجنہ بنائی جائیں۔زمیندار عورتیں بھی اپنے کام کاج کرنے کے درمیان میں گھنٹہ آدھ گھنٹہ وقت نکال لیں اور چھٹو اور ٹوکریاں ہی بنالیں تو آنہ دو آ نہ ضرور کماسکتی ہیں اور بڑی ہر والیاں ہیں نہیں روپے ماہوار تک کما سکتی ہیں۔لیکن میں نے چونکہ آج کل حکم دیا ہے کہ آرائش نہ کرو اس لئے ایسی سادہ چیزیں بنائیں۔مثلاً پراندے، ازار بند۔آئندہ کے لئے میں تجویز کرتا ہوں ۱۹۳۶ فروری سے نمائش ہوا کرے اور اس میں سب جگہ کی عورتیں چیزیں بھیجا کریں وہاں یہ چیزیں پک سکتی ہیں اور یہ لاہور میں نمائش ہو۔اس میں ہر جگہ کی عورتیں شامل ہوں۔حیدر آباد دکن ، بنگال ، یو، پی ، سرحد پنجاب کی عورتیں بھی آئیں اور اس وقت جو مخالفت ہو رہی ہے اُس کے جواب میں ہماری عورتیں عورتوں میں تبلیغ کریں اور اس کانفرنس و نمائش۔۔۔میں قصور ، امرتسر ، فیروز پور، گوجرانوالا ، ہر ضلع کی عورتیں ہوں۔لیکچراروں کو عمدگی سے لیکچروں کے لئے تیار کرایا جائے میں اس کی مدد کے لئے مرد بھی مقرر کروں گا۔اسی طرح عورتیں بھی تبلیغ میں حصہ لے سکتی ہیں۔رفتہ رفتہ دوسری جگہوں میں بھی تبلیغی مرکز بنائے جائیں۔مثلاً لاہور، امرتسر سیالکوٹ تا دوسری جگہ بھی عورتیں تبلیغ کر سکیں۔اب میں نے تمہارے لئے بھی کام بتا دئے ہیں آئندہ تم یہ نہیں کہ سکتیں کہ تم کو خدمت کا موقع نہیں ملا۔اپنی زندگیوں کو سادہ بناؤ تبلیغی کاموں میں حصہ لور اگر تم اب بھی عذر کرو تو جائز نہ ہوگا۔میں دعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ آئندہ اسلام کی خدمت کی توفیق ہماری عورتوں اور ہمارے بچوں اور مردوں کو دے۔اور تم کوشش کرو کہ دشمن تمہاری کوششوں کو دیکھ کر تم میں داخل ہوں۔اب تمہارے لئے کوئی عذر کی گنجائش نہیں۔ہر ایک کے لئے علیحدہ علیحدہ کام مقرر ہیں۔ستی کرو گی تو خدا کے حضور جوابدہ ہوگی۔اللہ تعالی مجھ کو اور آپ کو توفیق دے کہ ہم اس کی رضا پر چلیں۔آمین۔از مصباح ۱۵- جنوری ۱۹۳۵ء) تربیت اولاد کے متعلق حضرت مسیح الثانی کے ارشادات حضرت خلیہ اسیح الثانی رضی اللہ تعالی عنہ نے ۱۹۳۵ء کے جلسہ سالانہ پر تربیت اولاد کے متعلق ایک تقریر فرمائی تھی جس میں بتایا تھا کہ اگر اولاد کی تربیت شروع سے ہی اسلامی تعلیم کے مطابق کی جائے تو اولاد