اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 278 of 452

اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول — Page 278

278 کی ہے۔غلاموں کو حکم دیا فوراً اُن سے چھین لو چنا نچہ انہوں نے ایسا ہی کیا اور دربار سے نکال دیا کہ جاؤ تم میں اعزاز شاہی کے شکریہ کی قابلیت نہیں۔کہتے ہیں کہ یہ بہت سخت حاکم اور ظالم گورنر تھے مگر پھر ایسے نرم دل اور عاجز بندے خدا کے ہو گئے کہ جن جن افراد رعیت کو ستایا تھا اُن کے دروازے پر جا کر معافی طلب کی اور تقصیریں معاف کروائیں اور توبہ کی اور عبادت الہی میں مصروف ہوئے۔یہ اس خلعت کے واقعہ کا اثر تھا۔آپ سمجھ گئے کہ اے مولا ! جب انسان کے ایک خلعت کی تحقیر کر کے ایسی سزا پائی ہے تو ٹو نے جو نعمتیں بخشیں اُن کا شکر یہ ادا نہ کرنے پر تو بہت زیادہ مستحق سزا ہوں گا۔چنانچہ پھر وہ شکر یہ ربی ادا کرنے سے اولیاء کرام میں سے ہو گئے۔سو تم زیادہ شکر گزار بنو۔رسول کریم ﷺ نے فرمایا ہے میں نے دوزخ میں زیادہ حصہ عورتوں کا دیکھا کیونکہ وہ ناشکر ہوتی ہیں۔پھر عورتوں میں تعاون نہیں ہوتا اور یہ ہمارے ملک میں ہی نہیں بلکہ یورپ کی عورتیں بھی تعاون نہیں کر سکتیں ( اسی سلسلہ میں حضور نے فرمایا) میں یورپ میں گیا تو ایک عورت نے سوال کیا کہ کیا تمہارے ملک میں دروازے ہوتے ہیں ( یورپ کے لوگ عموماً دروازے بند رکھتے ہیں ) تو میں نے کہا دروازے ہوتے ہیں اور پھر کھلے رہتے ہیں تو اس عورت نے غلطی سے سمجھا کہ ہم پر اعتراض کیا ہے کہ یورپ کے لوگ مہمان نواز نہیں ہوتے اور ہم مہمان نواز ہیں۔پھر شکر کے ساتھ آپس میں ہمدردی ہونی چاہیئے۔پھر عورتوں کو بہت زیادہ صبر کرنے کی بھی مشق چاہیئے جو ان میں بہت کم ہے۔صبر کا جذ بہ مشق کرنے سے پیدا ہوتا ہے۔جو ہمارے ملک کی عورتوں میں بہت ہی نایاب ہے کیونکہ ان کو عادت نہیں اور یہ محنت اور بہادری سے آتا ہے۔یہاں تو اگر کوئی ذرا بھی تکلیف پہنچ جائے تو یہ رونے لگ جاتی ہیں حالانکہ ملکوں کے ساتھ جنگ ہو تو رونا کیسا ؟ تحمل، برداشت اور صبر کی صحابیات میں بہت مشق تھی۔ایک صحابیہ کا ذکر ہے کہ ان کا جنگ میں باپ، بیٹا ، خاوند شہید ہوئے تو کچھ پرواہ نہ کی اور بار بار رسول اللہ ﷺ کی خیریت دریافت فرماتیں اور پھر حضور کی زندگی کی خوشخبری سنکر کہا رسول اللہ ﷺ زندہ ہیں تو کچھ پرواہ نہیں۔اسی طرح ایک صحابیہ بی بی نے جنگ میں دشمنوں میں گھرے ہونے پر خیموں کے ڈنڈے اکھاڑ کر اتنی جنگ کی کہ دشمن کا ناطقہ بند کر دیا اور ان کو بھگا دیا مگر ہمارے ملک کی عورتیں ہیں کہ چھوٹی چھوٹی باتوں پر رونے لگ جاتی ہیں کہ الله میر امبر۔یہ صبر کوئی صبر نہیں ہوتا۔چنانچہ رسول اللہ ﷺ کی نسبت آیا ہے آپ کہیں تشریف لے جارہے تھے