اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 246 of 452

اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول — Page 246

246 کو مارنے کا کفار نے منصوبہ کیا تو آپ نے اس بیڑے کو اٹھانے کا تہیہ کیا۔کسی نے آپ کا ارادہ معلوم کر کے کہا کہ پہلے گھر کی خبر تو لو تمہاری بہن اور بہنوئی بھی تو محمد کے حلقہ بگوش ہیں۔اُسی وقت بہن کے گھر گئے ، بہن بہنوئی ایک صحابی سے قرآن شریف سُن رہے تھے قرآن چھپا دیا گیا۔عمر نے ان سے دریافت کرنے کے بعد اپنے بہنوئی پر کوار کا حملہ کیا بہن آڑے آگئی اور زخمی ہو گئی۔عورت کو مارنا چونکہ بند ولی کی علامت کبھی جاتی ہے عمر شرمندہ ہو گئے۔بہن کا خون بہتا دیکھ کر اس ندامت کو مٹانے کے لئے پو چھا تہ و تو کیا پڑھ رہے تھے۔بہنوئی نے چاہا کہ قرآن شریف دکھا دیں مگر بہن نے جوش سے کہا تو نا پاک سے وہ مقدس کتاب کیونکر تجھے دکھائی جاسکتی ہے۔عمر چونکہ اپنے فضل اور بہن کی قوت ایمانی سے بے حد متاثر ہو چکے تھے نرم ہو گئے اور جھٹ ایمان لے آئے۔یہ اس لئے کہ عورت نے تہیہ کر لیا تھا کہ اپنے اس معزز بھائی کو قطعی چھوڑ دیں گے مگر اس مقدس دین کو نہ چھوڑیں گے۔پس اُن کے اس استقلال پر اللہ تعالیٰ نے عمر کے دل کو نرم کر دیا۔وہ مسلمان ہو کر اسلام کے جاں نارین گئے۔اگر غورت یہ ہمت نہ دکھاتی تو عمر پر اتنا اثر نہ ہوتا اور نہ بہن بھائی ابدی طور پر یوں ملتے کہ ذرا بھی جدائی نہ ہوتی۔یادرکھو کہ پی محض قربانی کا ثمر ہ تھا۔پس اگر تم اپنے رشتہ داروں کو اپنے ساتھ ملانا چاہتی ہو تو قربانی کرو۔اللہ تعالی کا نشتر فائدہ کے لئے اور اس کی سزا رحم کے لئے ہوتی ہے۔وہ کبھی ظلم سے کسی کو سزا نہیں دیتا۔اُس کا رتم بے پایاں ہے۔خود فرماتا ہے وَسِعَتْ رَحْمَتِی کہ میری رحمت وسیع ہے۔تو وسیع رحمت والے سے کس طرح ظلم کی توقع ہوسکتی ہے اس کے کسی فعل سے ظلم ظاہر نہیں ہوتا۔دوزخ محض سزا دی اور تادیب کے لئے ایک ہسپتال ہے جہاں کوئی چند دن رہا، کوئی چند ہفتے کوئی چند مہینے ، کوئی چند سال مگر جس طرح کوئی ہمیشہ دُنیوی ہسپتالوں میں نہیں رہتا اسی طرح وہ ہسپتال (دوزخ) بھی دائی نہیں جنت گھر ہے اور دوزخ ہسپتال۔اللہ تعالیٰ کبھی برداشت نہیں کرتا کہ وہ اپنے بندوں کو دائی ڈکھ میں ڈال دے۔حدیث میں آتا ہے کہ آخر ایک دن دوزخ کے دروازے جنت کی ہوا میں بلائیں گی اور اُسے ٹھنڈا کر دیں گی۔یہ بھی وسیع رحمت کی دلیل ہے۔پس تمہارے اقرباء کی جدائیاں تادیب و ترقی کے لئے ہیں نہ ظلم و جور کی وجہ سے۔جیسے ماں کے پیٹ سے بچے کا جد اہونا اُس کی ترقیات کے لئے مفید اور ضروری ہے۔تو کیا کوئی ماں اپنے بچے کا پیٹ سے جُدا ہونا پسند کرتی ہے؟ کیا وہ کبھی کہتی ہے کہ ہائے کیوں میرا بچہ میرے پیٹ سے الگ کیا گیا ؟ ہرگز نہیں کہتی