اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول — Page 17
17 پر ہے تو سب مردو عورت گھبرا کر باہر نکل آئے اور اصل حقیقت دریافت کرنے کے لئے راستہ پر کھڑے ہو گئے۔ادھر لاشوں کے نیچے سے جب آنحضرت ﷺ کو نکالا گیا تو معلوم ہوا کہ آپ زندہ ہیں۔یہ سنکر سب مسلمان جمع ہو گئے اور کافر بھاگ گئے۔مسلمان جب مدینہ کو واپس لوٹے اور لوگوں نے انہیں دیکھا تو ایک عورت آگے بڑھی جو رسول کریم اے کی کوئی رشتہ دار نہ تھی وہ مدینہ کی رہنے والی تھی اور مکہ کے لوگ مدینہ والوں سے علیحدہ تھے۔وہ محض دین کی وجہ سے رسول کریم والے سے اخلاص رکھتی تھی اُس نے ایک صحابی سے جو آگے آگے آرہا تھا پوچھا۔رسول کریم کا کیا حال ہے؟ چونکہ آپ زندہ تھے اور پیچھے تشریف لا رہے تھے اس لئے اُس نے اس سوال کو معمولی سمجھ کر جواب نہ دیا اور کہا تیرا باپ مارا گیا ہے۔اس پر عورت نے کہا میں نے اپنے باپ کے متعلق نہیں پوچھا بلکہ یہ دریافت کیا ہے کہ رسول اللہ کا کیا حال ہے؟ مگر اُس نے اس کا جواب نہ دیا اور کہا تیرا خاوند بھی مارا گیا ہے۔یہ سنکر اُس نے کہا میں رسول اللہ کے متعلق پوچھتی ہوں اُن کا کیا حال ہے؟ اس کا بھی اُس نے جواب نہ دیا اور کہا تیرا بھائی مارا گیا ہے۔اس پر اُس نے کہا تم میرے سوال کا جواب کیوں نہیں دیتے۔میں پوچھتی ہوں رسول اللہ کا کیا حال ہے؟ اُس نے کہا اچھے ہیں اور تشریف لا رہے ہیں۔یہ سنکر اُس نے کہا الحمد للہ اگر رسول اللہ زندہ ہیں تو پھر اور کسی کی مجھے پروا نہیں ہے۔اس سے اُس عورت کی رسول اللہ ﷺ سے محبت اور الفت کا انداز ولگاؤ جو محض دین کی وجہ سے تھی اور خیال کرو کہ کیسا اخلاص تھا۔مگر اس زمانہ میں دیکھو اگر کسی کا چھوٹا بچہ مرجائے تو اس کا کیا حال ہوتا ہے۔مگر اُس کا باپ مارا جاتا ہے، خاوند شہید ہوتا ہے ، بھائی قتل کیا جاتا ہے، بیٹا کوئی ہے نہیں اور یہی قریبی سے قریبی رشتہ دار ہوتے ہیں جن کو اگر کوئی تکلیف اور ڈکھ پہنچے تو عورتوں کا کیا مردوں کے دل بھی ٹکرے ٹکرے ہو جاتے ہیں مگر اس عورت کے اندر ایسا قومی اور مضبوط دل تھا کہ اُسے باپ اور بھائی اور خاوند کے مرنے کی خبر سنائی جاتی ہے مگر وہ آنحضرت مہ کی خیریت کی خبر سنکر الحمد للہ کہتی ہے اور کسی صدمہ کی پروا نہیں کرتی۔اس قسم کے اور کئی واقعات ہیں یہ تو میں نے آنحضرت ﷺ کے وقت کا واقعہ سنایا ہے ایک واقعہ آپ کی وفات کے بعد کا سناتا ہوں۔ایک اور مثال ہندہ ایک عورت تھی جو آنحضرت ﷺ کی ابتداء میں اس قدر دشمن تھی کہ جب آپ کے چچا حضرت حمزہ شہید ہوئے تو اُس نے اُن کا کلیجہ نکال کر دانتوں سے چبایا تا کہ آنحضرت ﷺ کو تکلیف پہنچے لیکن