اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول — Page 179
179 ہے تو بہشت میں جائیں گے کچھ کوشش کرنے کی کیا ضرورت ہے۔دیکھو پانی یا آگ کو مارنے والی عورت کو تمام پاگل کہتے ہیں اس لئے کہ آگ یا پانی کا جو کام تھا اس نے وہی کیا۔پھر خدا اگر انسان کو ایک کام کرنے کے لئے مجبور بنا کر پھر سزا دیتا ہے تو کیا نعوذ بااللہ لوگ اُسے پاگل نہ کہتے۔کیونکہ اُس آدمی نے تو وہی کام کیا جو اُس کی تقدیر تھا۔پھر چور، ڈاکو ، جواری سب انعام کے قابل ہیں کیونکہ انہوں نے وہی کام کیا جو اُن کے مقدر میں تھا اور جس کام کے لئے وہ پیدا کئے گئے تھے۔مگر اللہ تعالے اس کی تردید فرماتا ہے اور کہتا ہے اگر جبر ہوتا تو کافر نہ ہوتے۔کیا تم میں سے کوئی ایسا ہے جو مار مار کے لوگوں سے کہے کہ مجھ کو گالیاں دو یا میرے بچہ کو مارو۔جب تم میں سے کوئی ایسا نہیں کرتا تو خدا نے جو زبان دی ، کان دئے تو کیا اس لئے کہ مجھ کو اور میرے رسولوں کو گالیاں دو۔جب دنیا میں کوئی کسی کو اپنے ساتھ بُرائی کرنے کے لئے مجبور نہیں کرتا تو خدا تعالے کیوں لوگوں کو بُرے کاموں کے لئے مجبور کرنے لگا۔اگر اُس نے مجبور ہی کرنا ہوتا تو سب کو نیکی کے لئے مجبور کرتا۔پس یہ غلط خیال ہے اور خدا تعالے اس کو رد کرتا ہے۔تقدیر کے متعلق غلط خیال عورتوں میں یہ مرض زیادہ ہوتا ہے کہ کسی کا بیٹا بیمار ہو جائے تو کہتی ہیں تقدیر یہی تھی کوئی اور بات ہو جائے تو تقدیر کے سر تھوپ دیتی ہیں۔میں کہتا ہوں اگر ہر بات تقدیر سے ہی ہوتی ہے اور انسان کا اس میں دخل نہیں ہوتا تو ایک عورت روٹی کیوں پکاتی ہے تقدیر میں ہوگی تو خود بخود پک جائے گی ، رات کو لحاف کیوں اوڑھتی ہے ، اگر تقدیر میں ہوگا تو خود بخود سب کام ہو جائے گا مگر ایسا کوئی نہیں کرتا۔ایک دفعہ میں لاہور سے قادیان آ رہا تھا اُسی گاڑی میں پیر جماعت علی شاہ صاحب لاہور سے سوار ہوئے۔حضرت صاحب ایک دفعہ سیالکوٹ گئے تو انہوں نے یہ فتوی دیا تھا کہ جو کوئی اُن کے وعظ میں جائے یا اُن سے ملے وہ کافر ہو گا اور اُس کی بیوی کو طلاق ہو جائے گی کیونکہ یہ مسئلہ ہے کہ جب مرد کا فر ہو جائے تو اُس کی بیوی کو طلاق ہو جاتی ہے۔ایک دفعہ ایک احمدی اُن کے وعظ میں گیا اور اُن سے کہا آپ نے میری شکل دیکھ لی ہے میں احمدی ہوں اس لئے آپ آب کافر ہو گئے اور آپ کی بیوی کو طلاق ہوگئی۔اس پر سب لوگ اُس کو مارنے لگ گئے۔خیر انہوں نے مجھ سے پوچھا کہ آپ کہا جائیں گے؟ میں نے کہا بٹالہ۔انہوں نے کہا خاص بٹالہ یا کسی اور جگہ ؟ میں نے کہا بٹالہ کے پاس ایک گاؤں ہے وہاں۔انہوں نے کہا اُس گاؤں کا کیا نام