اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 178 of 452

اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول — Page 178

178 مقدرت کیوں دی گئی کوئی کہہ سکتا ہے خدا نے انسان کو یہ قدرت ہی کیوں دی اور اس کو آزاد کیوں چھوڑا، اس سے اُس کی کیا غرض تھی ؟ سو معلوم ہو کہ اگر خدا تعالے انسان کو قدرت نہ دیتا تو وہ ترقی بھی نہ کرتا۔دیکھو آگ کی خاصیت جلانا ہے۔آگ میں جو چیز بھی پڑے گی وہ اس کو جلا دے گی چاہے وہ چیز آگ جلانے والی ہی کیوں نہ ہو۔دیکھو اگر کسی گھر میں چراغ جل رہا ہو اور وہ گر پڑے اور سارا گھر جل جائے تو کوئی چراغ کو ملامت نہیں کرے گا۔اسی طرح کوئی شخص آگ کو کبھی الزام نہیں دیتا کیونکہ جانتے ہیں کہ آگ کی خاصیت جلانا ہے لیکن اگر کوئی انسان کسی کو بلا وجہ انگلی بھی لگائے تو لوگ اس کو ملامت کریں گے کیونکہ اس میں یہ بھی مقدرت ہے کہ کسی کو ایذاء نہ پہنچائے۔اسی طرح دیکھو مکان بھی انسان کو سردی سے بچاتا ہے مگر کبھی کسی انسان نے مکان کا شکر یہ ادا نہیں کیا۔اس کے مقابلہ میں کوئی انسان کسی کو ایک کر نہ دے دیتا ہے تو اُس کا احسان مانتا ہے کیونکہ وہ جانتا ہے کہ اس کو اختیار تھا چاہے دیتا چاہے نہ دیتا۔تو آگ اگر بچہ کو جلا دے تو بھی کوئی آگ کی مذمت نہیں کرے گا اور انسان اگر انگلی بھی لگائے تو اُسے بُرا بھلا کہیں گے اس کی کیا وجہ ہے یہی کہ آگ کو اختیار نہیں مگر انسان کو اختیار تھا چاہے دُکھ دیتا چاہے نہ دیتا۔اسی طرح پانی کا کام ہے ڈبونا۔سمندر میں کئی انسان ڈوبتے رہتے ہیں مگر کبھی کوئی سمندر کو ملامت نہیں کرتا کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ یہ قانون ہے اس میں سمندر کو اختیار نہیں۔پھر سارے انعام اختیار کے ساتھ وابستہ ہیں۔انسان کو اس لئے اختیار دیا گیا کہ اُس کو انعام دیا جائے اور جو انعام کے قابل ہو سکتا ہے وہی سزا کا بھی مستحق ہو سکتا ہے۔بعض دفعہ بچہ زمین پر گر پڑتا ہے تو زمین کو پیٹتا ہے یا بعض عورتیں کہتی ہیں آؤزمین کو پیٹیں اس نے کیوں تمھیں گرایا۔مگر یہ محض ایک تماشہ ہوتا ہے جو بچہ کے بہلانے کے لئے ہوتا ہے۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے انسان کو اختیار اس لئے دیا کہ چاہے بڑھ چڑھ کر انعام لے جائے چاہے سزا کا مستحق ہو جائے۔کئی مسلمان مرد اور عورتیں کہتی ہیں جو کچھ اللہ تعالے نے ہمیں بنانا تھا بنادیا میں کسی کوشش کی ضرورت نہیں۔اگر بیگی ہے تو بتلاؤ پھر آب خدا کا کیا حق ہے کہ ہم میں سے کسی کو سزا دے یا انعام۔دیکھو آگ کا کام خدا نے جلانا اور پانی کا کام ڈبونا رکھا ہے۔آب اگر کوئی چیز کے جلنے پر آگ کو یا ڈبونے پر پانی کو مارے تو چوڑھی چماری بھی کہے گی یہ پاگل ہے۔مگر تم میں سے بہت سی عورتیں ہیں جو کہتی ہیں اگر ہماری تقدیر میں جہنم ہے تو جہنم میں ڈالے جائیں گے اور اگر بہشت