اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول — Page 142
142 جنہوں نے علوم کو ترقی دی۔ان قوموں کا یہ حال کیوں ہوا؟ اسی لئے کہ اُنہوں نے علم سے استکبار کیا۔مختلف زمانوں میں ابلیس مختلف رنگ اختیار کرتا ہے۔اس زمانہ میں اُس نے یہ رنگ اختیار کیا کہ ایجادیں نہیں ہو سکتیں اور یہ ناممکن بات ہے۔چنانچہ جب پہلے پہل ریل گاڑی ہندوستان میں چلی تو ہندوستان کے لوگ اس بات سے انکار کرتے ہوئے کہ آگ اور پانی میں اس قسم کی طاقت ہو سکتی ہے اُسے دیوتا سمجھنے لگے اور گاڑی کھڑی ہوتی تو انجن پر پھول چڑھاتے کہ یہ بھی ایک دہوتا ہے۔یہ اُن کی اس مایوی کا نتیجہ تھا کہ بھلا انسان اس قسم کی ایجاد کہاں کر سکتا ہے۔پس جب ابتداء سے انسان کی عظمت اور ترقی آدم سے مشابہ ہونے یعنی علم حاصل کرنے پر ہے اور علم سے مایوس ہونا ابلیس بننا ہے تو سمجھ لو انسان کے لئے کس قد ر ضروری ہے کہ علم حاصل کرے۔دوسرے لفظوں میں یوں کہا جا سکتا ہے کہ اسلام کے معنے علم اور کفر کے معنے جہالت ہیں۔یہی وجہ ہے کہ رسول کریم ﷺ نے کئی جگہ جہالت کا لفظ کفر کے معنوں میں استعمال فرمایا ہے چنانچہ آپ فرماتے ہیں مَنْ لَّمْ يَعرِفْ اِمَامَ زَمَانِهِ فَقَدْ مَاتَ مِيْتَةً جَاهِلِيَّةٌ کہ جو اپنے زمانہ کے امام کو نہیں پہچانتا وہ کفر کی موت مرتا ہے۔پس ہر ایک مسلمان کا فرض ہے کہ خود علم سیکھے اور علم پھیلانے کی کوشش کرے۔اور جس طرح مسلمان کے لفظ سے مرد مخاطب ہیں اسی طرح عورتیں بھی ہیں مگر چونکہ خدا تعالیٰ کا یہ قانون ہے کہ نبیوں کو اسی قوم میں مبعوث کرتا ہے جو سب سے زیادہ گری ہوتی ہے تا کہ یہ بتائے کہ کس طرح اس نے گرے ہوئے لوگوں کو بڑھایا اس لئے اُس نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو ہندوستان میں بھیجا جو تمدنی ، سیاسی اور علمی حالت میں گرا ہوا ہے تا کہ ہندوستان سے ایک ایسی جماعت پیدا کرے جو ساری دنیا کی استاد ہو۔مگر قوموں کی حالت ایک دن میں نہیں بدلا کرتی چونکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلو انا اسلام نے اپنی پہلی جماعت جاہلوں میں سے ہی لی تھی اس لئے ضروری ہے کہ کچھ عرصہ تک اس جماعت کے لوگ بھی جاہل ہی نظر آتے۔اس وجہ کے ماتحت ہماری جماعت میں بھی یہ نقص ہے کہ مرد بھی تعلیم میں کم ہیں اور عورتیں بھی اور اس نقص کا دُور کرنا نہایت ضروری ہے مگر ہر کام کے لئے وقت مقرر ہوتا ہے۔پہلے مردوں میں سے اس نقائص کو دور کرنے کی ضرورت تھی پھر عورتوں میں سے۔گو اس وقت تک مردوں کی طرف بھی ایسی توجہ نہیں کی گئی جو خوشکن ہو مگر ان کے متعلق امید ہے کہ انہیں ایسے رستہ پر ڈال دیا گیا ہے جس پر چل کر ان کی ترقی ہو سکتی ہے اب عورتوں کی طرف توجہ