اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 131 of 452

اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول — Page 131

131 ماسٹر صاحب نے جو واقعہ سنایا ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ پہلے دونوں طرف سے بے استقلالی ہوئی۔ماسٹر صاحب نے بھی بے استقلالی کی اور والدین نے بھی۔جب تک دونوں یہ نیت نہ کرلیں کہ استقلال سے کام کریں گے اس وقت تک کام نہیں چل سکے گا۔دونوں پورے استقلال سے کام کرنے کا وعدہ کریں اور چاہے آندھی آئے چاہے میںبہ اپنی بات پر قائم رہیں۔یورپ کے متعلق میں نے کئی بار پڑھا ہے کہ کلب میں جو لوگ جاتے ہیں وہ ہیں بیس سال متواتر جاتے رہے۔جب یورپ کے لوگ معمولی معمولی باتوں میں جو کھیل اور تفریح سے تعلق رکھتی ہیں اس قدر استقلال دکھائیں تو ہم ان باتوں میں کیوں استقلال نہ دکھا ئیں جو ہماری ترقی سے تعلق رکھتی ہیں۔اس کے بعد میں تربیت کے متعلق بعض موٹی موٹی باتیں بیان کرتا ہوں۔بیچے کی آواز بلند ہونی چاہیے اول تو مجھے اس بات سے صدمہ ہوا ہے کہ جتنے بچوں نے مضمون سنائے ہیں نیچی آواز سے سنائے ہیں مجھے نیچی آواز سے سخت چڑ ہے اور بہت تکلیف ہوتی ہے۔میرے نزدیک نچہ کا یہ پیدائشی حق ہے کہ ماں باپ اس کی آواز اونچی بنا ئیں تا کہ بچہ دنیا سے زیادہ سے زیادہ لوگوں کو اپنی آواز سنا سکے۔جس بچہ کی آواز طوطی کی سی ہوگی وہ دنیاں کے نقار خانہ میں اپنی آواز نہیں سنا سکے گا۔دیکھو کوئی نبی ایسا نہیں ہوا جس کی آواز عمدہ اور اچھی نہ ہو۔اور یہ نہایت ضروری ہے کہ انسان کی آواز بلند ہو مگر ان بچوں کی آواز دھیمی اور کانپتی ہوئی تھی میرا تو یہاں تک خیال ہے کہ رشتے چنتے وقت ایسا رشتہ تلاش کرنا چاہیئے جس کی آواز بلند ہو۔اور استادوں کو چاہیئے کہ بچوں کی آوازیں بلند کرنے کے متعلق جو کتابیں ہیں انہیں پڑھیں اور جو طریق بتائے گئے ہیں ان کو کام میں لائیں۔میرا چھوٹا بچہ منور احمد بہت آہستہ ہوتا تھا اس کو قاری غلام بین صاحب کے پاس قرآن کریم پڑھنے کے لئے بھیجا گیا۔ایک دن گھر جب اس سے سبق سنے لگے تو اس نے شور ڈال دیا اور بہت زور سے سنانے لگا۔مجھے اس پر تعجب ہوا اور میں نے وجہ پوچھی تو معلوم ہوا کہ قاری صاحب چونکہ اونچا سنتے ہیں اس لئے ان کو زور سے سنانے کی وجہ سے اونچی آواز سے پڑھنے کی عادت ہوگئی ہے۔میں گھر میں بیویوں کو پڑھا تارہا ہوں اور اونچی آواز کرنے کے لئے اس طرح کرتا تھا کہ اپنے سے دور بٹھاتا نا سنانے کے لئے زور سے پڑھیں۔اسی طرح جب میں مدرسہ احمدیہ میں پڑھاتا تھا تو جواڑ کا نیچی آواز