اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول — Page 125
125 ہوتا ہے کہ اگر اللہ تعالی کے لئے جانیں بھی قربان کرنی پڑیں تو ہماری جماعت دریغ نہ کرے گی۔دوستوں کو چاہیئے کہ جہاں تک ہو سکے جلدی اس ثواب کو حاصل کرنے کی عورتوں کو تحریک کریں کیونکہ ، اگر اسی وقت مسجد بجنے لگے تو اس رقم میں بن سکتی ہے ورنہ بعد میں ممکن ہے کہ دس لاکھ میں بھی نہ بن سکے۔پس مردوں کو چاہئے کہ تحریک میں جلدی کریں۔اللہ تعالیٰ ہمیں اپنی ذمہ داریوں کو سمجھنے اور اُن کو پورا کرنے کی توفیق دے اور ہدایت پر قائم رکھے۔احمدی بچوں کی تعلیم وتربیت تقریر فرموده ۲۹ - جوان ۱۹۳۳ ء بعد نماز مغرب بمقام محله دار الفضل قادیان) بچوں کی تربیت کا سوال یہ سوال ایسا اہم سوال ہے کہ کسی قوم کی بہتری کا دارو مدار اسی پر ہوتا ہے۔ہمیشہ جو قو میں تباہ ہوئی ہیں اسی وجہ سے ہوئی ہیں کہ پہلے لوگ مرگئے اور پچھلے اُن کے قائمقام نہ بن سکے۔اگر حضرت ابو بکر کا قائمقام ابو بکر پیدا ہو جاتا ، اگر حضرت عمر کا قائمقام عمر پیدا ہو جاتا ، اگر حضرت عثمان کا قائمقام عثمان پیدا ہو جاتا اگر حضرت علی کا قائمقام علی پیدا ہو جاتا ، اسی طرح طلحہ ، زبیر اور دوسرے صحابہ کے قائمقام پیدا ہوتے اور پھر اُن کے قائمقام ہوتے پھر اُن کے اور یہی سلسلہ چلتا رہتا تو آج اسلام میں ایسے مولوی کیوں پیدا ہوتے جنہوں نے حضرت مسیح موعود پر کفر کے فتوے دیئے اور آپ کے رستے میں روکیں ڈالیں۔کیا شروع سے مسلمان ایسے ہی تھے۔ہر گز نہیں۔ان کے پیدا ہونے کی وجہ یہی ہے کہ پہلوں کی نسلیں ان کی قائمقام نہ پیدا ہوئیں۔پس کسی قوم میں جس قدر خرابیاں پیدا ہوتی ہیں اس کی وجہ یہی ہوتی ہے کہ آئند و اولاد میں ماں باپ کے نقش قدم پر نہیں چلتیں۔بعد میں آنیوالوں کا دُنیوی علوم میں ترقی کرنا اور یہ عجیب بات ہے کہ ہر علم سے متعلق ہم دیکھتے ہیں کہ بعد میں آنیوالے پہلوں کی نسبت اس میں زیادہ ترقی کرتے ہیں مثلاً پہلے جو حساب ہوتا تھا آج اُس سے بڑھا ہوا ہے اور آجکل کے حساب دان پہلے حساب دانوں سے بڑھے ہوئے ہیں۔اسی طرح تاریخ کا حال ہے اس زمانہ میں پہلے سے زیادہ عمدگی کے ساتھ تاریخ مدون ہو چکی ہیں جو نہ صرف اس زمانہ کے حالات کی بلکہ اُس زمانہ کے حالات کی بھی جس میں وہ واقعات ہوئے اس وقت اُس زمانہ کے حالات اس