اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول — Page 109
109 تفریق و امتیاز ہے۔ایک طرح سے تمام اقوام ایک ہی ہیں کیونکہ ایک آدم کی اولاد ہیں مگر مختلف ملکوں میں چلے جانے اور رہنے سہنے سے اختلاف ہو گیا۔یورپ کے لوگوں کا دماغ خاص قسم کا ہے۔ایشیا کے لوگوں کے قومی اور رنگ کے ہیں۔افریقہ والے اور قسم کے۔پھر میدانوں میں رہنے والے اور پہاڑوں کے رہنے والوں میں جدا امتیاز ہے۔یہ آب و ہوا اور تمدن کے اثر کے سبب سے ہوتا ہے یہاں تک کہ چمڑوں اور ہڈیوں کی بناوٹ میں فرق ہو جاتا ہے۔اس علم کے ماہر ایک ہڈی کو دیکھ کر بتا دیتے ہیں کہ وہ کس قوم کا آدمی ہے۔غرض یہ علم بھی بہت وسیع ہے۔اور اس میں آئے دن ترقی ہورہی ہے۔علم نباتات و حیوانات (۵۷) ستاونواں علم علم النباتات ہے۔یہ علم بھی آجکل بہت ترقی کر گیا ہے۔نباتات کے کیا اعمال ہیں؟ نباتات زندہ ہیں یا نہیں ؟ اور وہ سنتے اور دیکھتے ہیں یا نہیں؟ ان میں جس ہوتی ہے یا نہیں؟ قوتیں ہوتی ہیں یا نہیں ؟ ان پر رنج و راحت کا اثر ہوتا ہے یا نہیں؟ پھر ان باتوں کے معلوم کرنے کے کیا طریق ہیں اس علم کا ایک بہت بڑا ماہر ایک ہندوستانی ڈاکٹر یوس ایک بنگالی ہے۔اس نے یورپ میں جا کر اپنے تجربوں سے ثابت کر دیا ہے کہ نباتات میں بھی جس اور زندگی ہے اور وہ انسان کی طرح مختلف جذبات سے متاثر ہوتے ہیں۔سنتے ہیں، چلتے ہیں، ان میں غصہ بھی ہوتا ہے اور وہ خبر رسانی کرتے ہیں۔ان میں شرم اور حیا بھی ہوتی ہے اور اُن کو بھوک اور پیاس بھی لگتی ہے۔پھر اس علم میں نباتات کے اقسام پر بحث ہوتی ہے اور یہ بھی کہ مختلف آب و ہوا میں کس قسم کے پودے ہوتے ہیں اور کس قسم کے نباتات کن ملکوں میں نہیں ہو سکتے۔ان کے امراض کیا ہیں؟ اور ان کے اسباب اور علاج کیا ؟ پھر اس علم میں ایک بحث علمی ترکیب سے ہو گی۔مفردات کو لے کر بحث کریں گے کہ یہ فلاں چیز کی رشتہ دار ہے۔بعض اوقات ایک پودے کی شکل نہیں ملتی مگر وہ رشتہ دار ہوتا ہے۔مثلا گنا اور کانا (سرکنڈا) کو ایک ہی قوم سے بتاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ سر کنڈا ترقی کرتے کرتے گنا ہو گیا۔(۵۸) اٹھاونواں علم علم الحیوانات ہے۔اس میں جانوروں کے متعلق بحث ہوگی اور اس علم میں حیوانات کے اعمال پر بحث ہوتی ہے۔باریک باریک ذرات کے کیا کام ہیں۔ریڑھ کی ہڈی والوں کی کیا