اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 108 of 452

اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول — Page 108

ہوئے۔108 شروع ہی سے آم یا امرود تھے یا یہ کوئی اور پھل تھے اور ترقی کرتے کرتے آم اور امرود ہو گئے ؟ نباتات کی ابتدائی پیدائش کے ماہر کہتے ہیں کہ پہلے سبزہ ذرا سا تھا پھر اس سے ترقی کرتے کرتے اس کی شاخیں ہوئیں پھر شاخیں در شاخیں سلسلہ چلا گیا اور ہزاروں لاکھوں قسمیں ہو گئیں جیسے آدم کی اولا د ایک تھی پھر کوئی کہیں چلا گیا ، اور کوئی کہیں کوئی گورا ہو گیا اور کوئی کالا۔اسی طرح نباتات کے متعلق کہتے ہیں کہ ابتداء میں ایک ذرہ سا تھا پھر اسی علم کے ماتحت جانوروں کے متعلق بحث ہوتی ہے اور پھر ان کی موٹی تقسیم دو طرح پر کی ہے۔ظہری اور غیر قطبری یعنی وہ جن کی ریڑھ کی ہڈی ہوتی ہے اور وہ جن کی ریڑھ کی ہڈی نہیں ہوتی۔پھر اس ترقی کے مدارج پر بحث ہے کہ کس کس طرح ترقی ہوئی۔(۵۵) پچپنواں علم بایولوجی یعنی حیات جسمانی کا علم ہے۔جسم کی زندگی پر اس علم کے ذریعہ بحث ہوتی ہے۔مثلا ہاتھ حرکت کرتا ہے وہ اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ اس میں ایک حیات ہے روح ایک الگ چیز ہے۔جسم میں ایک حیات ہوتی ہے۔پھر اس حیات کے بھی مدارج ہوتے ہیں۔یہ ایک بہت باریک اور وسیع علم ہے۔علم الارتقاء میں اس پر بحث ہوگی۔کس طرح پر ایک جانور سے دوسرا بن جاتا ہے۔علم الارتقاء کے ماہرین کہتے ہیں کہ انسان ایک کیڑا ہوتا ہے وہی ترقی کرتے کرتے کوئی بندر بن گیا اور کوئی کچھ۔اور پھر آخر ترقی کرتے کرتے انسان بن گیا۔یہ لوگ ایک نیا سلسلہ چلاتے ہیں۔ان کا خیال ہے کہ ترقی کرتے کرتے وہ کیڑر بندر بنا اور پھر اس سے ترقی کر کے ایک اور جانور بنا۔پھر اس سے انسان بن گیا۔یہ علم الارتقاء کہلاتا ہے۔یہ علم بجائے خود ایک بحث طلب چیز ہے مگر اس علم والوں نے اس علم سے ایک فائدہ اُٹھایا کہ چھوٹی چیزوں کو بڑی بنالیا۔مثلاً کدو بہت بڑا بنا لیا۔اور بعض نئے مزے کی چیزیں بنالیں۔ایک مزے کا انگور تھا اس میں ترقی کر کے کچھ اور تبدیلی کر لی۔نباتات کی ترقی میں اس علم سے بہت فائدہ اُٹھایا گیا ہے۔ہی علم میں یہ بحث بھی آتی ہے کہ باپ سے بیٹے کو کیا ورثے آتا ہے یعنی بیٹا باپ سے کن کن خصائل و عادات وغیرہ کو لیتا ہے۔کس طرح سے ایک خاندان اپنی خاص بات اپنی اولاد میں منتقل کرتا چلا جاتا ہے۔(۵۶) چھپنواں علم علم الاقوام ہے مختلف قوموں میں آپس میں کیا تعلق ہے اور کس حد تک اُن میں