اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول — Page 4
4 دینی بہت زیادہ پائی جاتی ہے۔بہت سی ایسی عورتیں ہمارے پاس بیعت کرنے کے لئے آتی ہیں جو کلمہ شہادت بھی نہیں پڑھ سکتیں۔اشهَدُ َانْ لا اله الا الله وَاشْهدُ أنَ مُحَمَّدَ اعْبُدُهُ وَرَسُوله، کتنا چھوٹا ساجملہ ہے اور خدا تعالیٰ کا کتنا فضل ہے کہ اس نے اس جملہ میں ساری شریعت کا خلاصہ رکھ دیا ہے لیکن عورتیں بہت سے فضول شعر تو یاد کر لیتی ہیں۔قصے اور کہانیاں جانتی ہیں مگر بہت ایسی دیکھی گئی ہیں کہ جب انہیں کلمہ شہادت پڑھوایا گیا تو نہیں پڑھ سکتیں۔پس عورتوں میں جہالت کمال کو پہنچ گئی ہے لیکن یہ خوب یاد رکھو کہ خدا تعالی کی طرف سے جو احکام آتے ہیں وہ مرد و عورت دونوں کے لئے ایک جیسے ہوتے ہیں اور جیسا ان عمل کرنا مردوں کے لئے ضروری ہوتا ہے ویسا ہی عورتوں کے لئے بھی ضروری ہے۔عورتوں کی اسلامی خدمات آنحضرت ﷺ کے زمانہ پر نظر کرنے سے پتہ لگتا ہے کہ جس طرح مردوں سے ہم تک دین پہنچا ہے اسی طرح عورتوں سے بھی پہنچا ہے۔اگر ہم حدیثوں سے یہ پڑھتے ہیں کہ حضرت ابو بکر نے یا حضرت عمرؓ نے یا حضرت عثمان نے یا حضرت علیؓ نے اور ابو ہریرہ وغیر ھم نے رسول کریم معہ سے فلاں بات سنکر بیان کی ہے تو ساتھ ہی یہ بھی پڑھتے ہیں کہ حضرت عائشہ سے حضرت حفصہ علية سے حضرت اُم سلمہ سے سنا گیا ہے کہ آنحضرت مہ نے فلاں بات یوں فرمائی۔تو روایات کا سلسلہ جس طرح مردوں سے چلتا ہے اسی طرح عورتوں سے بھی چلتا ہے۔اور اگر آدھا دین مردوں سے ہم تک پہنچا ہے از آدھا دین عورتوں نے پہنچایا ہے۔آج وہ لوگ جو بڑے بڑے عالم مشہور ہیں اگر مرد صحابہ کے شاگرد ہیں تو عورتوں کے بھی ہیں اور علم شریعت کا وہ حصہ جو مردوں سے تعلق رکھتا ہے انہوں نے مردوں سے سیکھا ہے تو وہ حصہ جو عورتوں کے متعلق ہے عورتوں سے پڑھا ہے۔اگر مرد اور عورت دونوں اس معاملہ میں کوشاں نہ ہوتے تو دین نامکمل رہ جاتا۔اسلام کے ابتدائی ایام کو دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے جس طرح مردوں نے اسلام پھیلایا ہے اسی طرح عورتوں نے بھی اس کام میں حصہ لیا ہے اور جس طرح مردوں نے اسلام سیکھا ہے اسی طرح عورتوں نے بھی سیکھا ہے۔پھر مسلمانوں میں بڑی مشہور اور عالم عورتیں گزریں ہیں۔ایک عورت رابعہ بصری نام گزری ہیں جب بھی وہ کوئی کلام کرتیں قرآن شریف کی آیت سے ہی کر تھیں اور اگر جواب دیتیں تو بھی قرآن شریف سے ہی دیتیں۔انہیں خدا تعالیٰ کی طرف سے الہام، کشف اور رویا ہوتے تھے اسی طرح کی اور بہت سی سورتیں ہیں جنہوں نے خدا تعالیٰ کا قرب حاصل کیا ، خدا سے باتیں کیں اس زمانہ میں کسی