اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ دوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 83 of 156

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ دوم) — Page 83

الازھار لذوات الخمار جلد سوم حصہ دوم 83 جلسہ سالانہ برطانیہ 2007 مستورات سے خطاب حضرت خلیفہ مسیح الرائع ایک واقعہ بیان کرتے ہیں کہ ایک ماں نے میرے پاس دس ہزار روپے بھیجے۔وہ لکھتی ہیں کہ میرے پاس بیٹی کے زیور کے لئے دس ہزار روپے جمع تھے جو سنار کو دیئے ہوئے تھے لیکن یہ خطبہ سناجب تحریک کی انہوں نے ، ایک مالی تحریک کی ، تو دل نے فیصلہ کیا کہ جب میرا خدا میری بیٹی کے لئے ساتھی دے گا تو زندہ خدا اُس کو زیور بھی دیدے گا۔آج میرے حضور کو ضرورت ہے۔چنانچہ سنار کو دیے ہوئے پیسے واپس لئے اور یورپین مشن کے چندے میں دیدئیے۔ایک واقف زندگی کی بیوی کے بارہ میں لکھا ہے کہ لکھتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے میرے دل میں ڈالا کہ میں اس قربانی کے موقعہ پر حاضر ہوں اور قرآن مجید کے حکم ” لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوْ مِمَّا تُحِبُّون یعنی تم ہرگز نیکی کو نہیں پاسکتے جب تک اس میں سے نہ خرچ کرو جو تمہیں محبوب ہے جو تمہیں عزیز ہے جو تمہیں پسندیدہ ہے۔کہتی ہیں کہ اس آیت کے تابع میں نے سوچا کہ مجھے اپنی ملکیتی چیزوں میں سے، جو میری ملکیت ہیں چیزیں، اُن میں سب سے زیادہ پیاری کونسی چیز ہے جو میں پیش کروں تو گلے کا ایک ہار جو میرے زیوروں میں سب سے زیادہ بھاری اور سب سے زیادہ پسندیدہ تھا، وہ میں نے اس تحریک میں پیش کر دیا۔تو یہ مثالیں ہیں اور آج بھی یہ مثالیں قائم ہیں۔ابھی کچھ ہی دن ہوئے گذشتہ دنوں میں۔ایک خاتون زیور کے کئی ڈبے اٹھا کر میرے پاس لے آئیں۔تو میں نے کہا اتنا بڑ از یورکس لئے کس تحریک کے لئے دینا ہے آپ نے اور گھر میں کیا رکھ کے آئی ہیں۔انہوں نے کہا میرا گل زیور ہے جو میں یہاں لے آئی ہوں آپ کے پاس۔آواز اُن کی کانپ رہی تھی، کچھ خوفزدہ بھی لگیں۔تو میں نے کہا خوف زدہ کس بات پہ ہیں آپ؟ انہوں نے کہا کہ خوف مجھے یہ آرہا ہے جس کی وجہ سے میں ڈر رہی ہوں کہ کہیں آپ یہ زیور لینے سے انکار نہ کر دیں۔اور کئی لاکھ روپے کا وہ زیور تھا جو انہوں نے آرام سے دیدیا۔تو یہ عورتوں کی مثالیں اور قربانیاں آج بھی اسی طرح قائم ہیں۔حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ جب تقسیم ملک ہوئی اور ہم ہجرت کر کے پاکستان آئے تو جالندھر کی ایک احمدی عورت مجھے ملنے کے لئے آئی۔رتن باغ میں ہم مقیم تھے وہیں وہ آکر ملی اور اپناز یور نکال کر کہنے لگی کہ حضور میرا یہ زیور چندے میں دیدیں۔میں نے کہا: بی بی ! عورتوں کو زیور کا بہت خیال ہوتا ہے۔تمہارے سارے زیور سکھوں نے لوٹ لئے ہیں، پارٹیشن کے وقت سکھوں نے سارا سامان لوٹ لیا تھا مسلمانوں کا۔تو یہی ایک زیور تمہارے پاس ہے