اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ دوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 82 of 156

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ دوم) — Page 82

الازھار لذوات الخمار جلد سوم حصہ دوم 82 جلسہ سالانہ برطانیہ 2007 مستورات سے خطاب موعیہ تھیں 115 کی۔بڑے کھلے ہاتھ سے مالی قربانی کیا کرتی تھیں۔زیورک کی مسجد کی تحریک ہوئی تو اپنا سارے کا سارا زیور اُس تحریک میں دیدیا۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں۔ایک دفعہ واقعہ بیان کیا کہ ایک نہایت غریب وضعیف بیوہ جو پٹھان مہاجر تھیں اور سوٹی سے بمشکل چل سکتی تھیں ، خود چل کر آئیں اور حضور کی خدمت میں دوسو روپے پیش کر دیے۔یہ عورت بہت غریب تھی۔اس نے دو چار مرغیاں رکھی ہوئی تھیں جن کے انڈے فروخت کر کے اپنی کچھ ضروریات پوری کیا کرتی تھیں، باقی دفتر کی امداد پر گزارا چلتا تھا۔اسی طرح ایک پنجابی بیوہ جس کی واحد پونجی صرف ایک زیور تھا وہی اُس نے مسجد کے لئے بھی دیدیا۔ایک بیوہ عورت جو کئی یتیم بچوں کو پال رہی تھی اور زیور یا نقدی کچھ بھی اُس کے پاس نہ تھا، اس نے استعمال کے برتن چندے میں دیدئیے۔ایک جوش تھا ایک جذبہ تھا قربانی کا جس کے تحت انہوں نے یہ مالی قربانی کی۔ایک بہاولپور کے دوست تھے۔اُن کی بیوی کے پاس دو بکریاں تھیں وہ بکریاں لے کر چندے کے لئے آگئی۔حضرت خلیفتہ المسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ نے ایک دفعہ تحریک فرمائی تو ایک عورت نے پچیس تیس ہزار پاؤنڈ پیش کئے۔اسی طرح نائیجیریا کی ایک خاتون نے دس ہزار پاؤنڈ پیش کر دیئے۔اُس زمانے میں ان کی بڑی ویلیو تھی ، آج سے بہت زیادہ تھے۔تو یہ نائیجیرین عورت دور دراز علاقے میں رہنے والی ، اُن کی بھی یہ قربانیاں تھیں۔باقی تو یہ کہہ سکتے ہیں کہ خلافت سے قرب تھا۔صحابہ کی اولاد میں سے تھے۔قربانیوں کا پتہ تھا لیکن یہ لوگ جو خود احمدی ہوئے ہیں اور دُور دراز علاقوں میں رہنے والے ہیں ، ان کی بھی قربانیوں کی مثال دیکھیں کہ دس ہزار پاؤنڈ رہجا لا رگہ نام تھا اُن کا ، پیش کر دئیے۔یہ صاف ظاہر ہے کہ یہ انقلاب ان میں زمانے کے امام کی قوت قدسی سے آیا جس کا ایک اظہار ہے اللہ تعالیٰ نے اپنے پیارے مسیح کی مدد کا یہ نظارہ دکھاتے ہوئے ، تائید کا نظارہ دکھاتے ہوئے ، ہمیں دکھایا گیا یہ اظہار کیا ہے۔وہ لوگ جو دور دراز علاقوں میں رہنے والے تھے ، ان کے دلوں میں جماعت کی اور خلافت کی اور اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کی اور عشق و محبت کی ایسی آگ لگائی جس نے دنیا کی تمام محبت کو ٹھنڈا کر دیا۔