اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ دوم) — Page 67
الازهار لذوات الخمار جلد سوم حصہ دوم 67 فرمودہ 29 دسمبر 2006 بمقام بیت السبوح، فرینکفورٹ جرمنی ہیں کہ میں نے جو تحریک کی تو عورتوں میں اس قدر جوش تھا کہ ان کا دل چاہتا تھا کہ سب کچھ گھر کا سامان جو ہے وہ دے دیں۔ایک عورت نے اپنا سارا زیور جو تھا سارا چندے میں دے دیا۔اور گھر آئی اور کہنے لگی کہ اب میرا دل چاہتا ہے ( غریب سی عورت تھی معمولی زیور تھا ) کہ اب میں گھر کے برتن بھی دے آؤں۔اس کے خاوند نے کہا کہ تمہارا جو زیور تم نے دے دیا ہے کافی ہے۔تو اس کا جواب یہ تھا کہ اس وقت میرا اتنا جوش ہے کہ میرا اگر بس چلے تو تمہیں بھی بیچ کے دے آؤں۔تو گو کہ جواب صحیح نہیں ہے لیکن یہ اس جوش کو ظاہر کرتا ہے جو قربانی کیلئے عورتوں میں تھا۔حیرت ہوتی تھی اس وقت کی عورتوں کی قربانی دیکھ کر اور آج کل جو آپ اس وقت کے حالات کے مقابلے میں بہت بہتر حالات میں ہیں تو کہنا چاہئے انتہائی امیرانہ حالت میں رہ رہے ہیں۔فرق بڑا واضح نظر آتا ہے۔آپ لوگ آج شاید وہ معیار پیش نہ کر سکیں۔جیسا کہ میں نے بتایا ہے جو ان لوگوں نے کئے تھے۔کچھ عرصہ ہوا آپ کے صدر صاحب انصار اللہ نے مجھے لکھا کہ انصار اللہ نے 100 مساجد کیلئے وعدہ کیا ہوا ہے۔پانچ لاکھ یا جتنا بھی تھا۔جو میں نے ٹارگٹ دیا تھا ساروں کو اور فلاں فلاں اخراجات ہو گئے ہیں اس لئے مرکز ہمیں اتنے عرصہ کے لئے کچھ قرض دے دے تا کہ انصار اللہ اپنا وعدہ پورا کر سکے۔تو میں نے ان کو جواب دیا تھا کہ بالکل اس کی امید نہ رکھیں۔یہ گندی عادت جو آپ ڈالنا چاہتے ہیں اپنے آپ کو اور پھر ایک آپ کو جو یہ گندی عادت پڑے گی تو باقی تنظیموں کو بھی پڑے گی۔اس کو میں نہیں ہونے دوں گا خود ہمت کریں، خود در قم جمع کریں۔انہوں نے وعدہ پورا کیا یا نہیں کیا مجھے نہیں پتہ لیکن بہر حال انکار ہو گیا تھا۔تو میں نے سوچا تھا کہ اگر انہوں نے زیادہ زور دیا یا کسی اور تنظیم نے لکھا تو پھر میں ان کو یہی جواب دوں گا کہ اب میں پاکستانی احمدیوں سے کہتا ہوں کہ وہ اپنے ان امیر بھائی بہنوں کی مدد کریں کیونکہ یہ ہمت ہار رہے ہیں۔اور کچھ تھوڑا بہت جوڑ کر آنہ دو آ نے چندہ جمع کریں اور ان لوگوں کو بھجوا د ہیں۔لیکن میرا خیال ہے کہ میرا انصار اللہ کو جو جواب تھا وہ کافی اثر کر گیا اور امید ہے کہ انشاء اللہ تعالیٰ اب آپ لوگ خود اپنے پاؤں پہ ساری تنظیمیں کھڑی ہوں گی۔