اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ دوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 35 of 156

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ دوم) — Page 35

الازھار لذوات الخمار جلد سوم حصہ دوم 35 بر موقع جلسہ سالانہ آسٹریلیا 2006 مستورات سے خطاب اچھی تربیت سے بڑھ کر کوئی بہترین اعلی تحفہ نہیں جو باپ اپنی اولاد کو دے سکے اگر کوئی خاوند بے صبرا ہے تو گھر میں ہر وقت تو تکار رہتی ہے یہ بھی مریض بنا رہی ہوتی ہیں تو دونوں صورتوں میں وہی گھر جو جنت کا گہوارہ ہونا چاہئے جنت نظیر ہونا چاہئے جہنم کا نمونہ پیش کر رہا ہوتا ہے ان لڑائیوں جھگڑوں کی وجہ سے۔پھر بچوں کے ذہنوں پر اس کی وجہ سے علیحدہ اثر ہورہا ہوتا ہے۔ان کی تعلیم و تربیت متاثر ہو رہی ہوتی ہے۔بعض بچے اس معاشرے میں کیونکہ بالکل آزاد معاشرہ ہے سچ کہنے کی عادت ڈالی جاتی ہے ماں باپ کے منہ پر کہہ دیتے ہیں کہ بجائے ہماری اصلاح کے پہلے اپنی اصلاح کریں۔تو اس طرح جو عورت خاوند کے گھر کے اس کے مال اور بچوں کی نگران بنائی گئی ہے اپنی خواہشات کی وجہ سے اس گھر کی نگرانی کے بجائے اس کولٹوانے کا سامان کر رہی ہوتی ہے۔پس ہر احمدی عورت کو یہ ذہن میں رکھنا چاہئے کہ وہ اپنی دنیاوی خواہشات کی تکمیل کے لئے نہیں بلکہ اپنے پیدا کرنے والے خدا کی عبادت اور اس کے حکموں پر عمل کرنے کے لئے اس دنیا میں آئی ہے۔ان باتوں سے عورتیں یہ نہ سمجھیں کہ تمام ذمہ داریاں صرف عورتوں پر ہیں اور مرد آزاد ہو گئے ہیں۔مردوں کے بھی یہی احکام ہیں۔اس وقت میں کیونکہ آپ عورتوں سے مخاطب ہوں اس لئے خاص طور پر آپ کو توجہ دلا رہا ہوں۔ورنہ آنحضرت ﷺ نے مردوں کو مخاطب کر کے بھی فرمایا ہے اچھی بچوں کی تربیت کے وہ بھی ذمہ وار ہیں۔کہ اچھی تربیت سے بڑھ کر کوئی بہترین اعلی تحفہ نہیں جو باپ اپنی اولادکو دے سکے۔پس یہ تربیت کرنا باپوں کی بھی ذمہ داری ہے اور ماؤں کی بھی ذمہ داری ہے۔اور جب تک باپ اپنے عملی نمونے قائم نہیں کریں گے اس وقت تک وہ تربیت نہیں کر سکتے۔پس آپ دونوں اپنی اولاد کی تربیت کے لئے اپنی ذمہ داری کو سمجھیں۔اور مرد ہو یا عورت وہ سب ذمہ دار ہیں لیکن جیسا کہ میں نے کہا کیونکہ بچپن سے بچے زیادہ وقت عورت کے پاس رہتے ہیں ماں کے پاس رہتے ہیں اس لئے اس کو اچھی تربیت کی وجہ سے جو تربیت ایک ماں اپنے بچوں کی اچھی کرتی ہے آنحضرت ﷺ نے اسی تربیت کی وجہ سے عورت کو یہ خاص مقام عطا فرمایا ہے۔جو فر مایا کہ ” جنت ماں کے قدموں تلے ہے۔یہ آپ کی تربیت ہی ہے جو آپ کے بچوں کو اس 66