اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ دوم) — Page 25
الازهار لذوات الخمار جلد سوم حصہ دوم 25 بر موقع جلسہ سالانہ آسٹریلیا 2006 مستورات سے خطاب فیشن میں برقعہ کے طور پر جو کوٹ پہنا جاتا ہے وہ بھی اس قدر تنگ ہو کہ مردوں کے سامنے جانے کے قابل نہ ہو تو وہ فیشن بھی منع ہے۔یہ فیشن نہیں ہو گا پھر وہ بے حیائی بن جائے گی۔پھر آہستہ آہستہ سارے حجاب اُٹھ جائیں گے اور اسلام حیا کا حکم دیتا ہے۔پس اپنی حیا اور حجاب کا خیال رکھیں اور اس کی حدود میں رہتے ہوئے جو فیشن کرنا ہے کریں۔فیشن سے منع نہیں کیا جاتا لیکن فیشن کی بھی کوئی حدود ہوتی ہیں ان کا بھی خیال رکھیں۔فیشن کا اظہار اپنے گھر والوں اور عورتوں کی مجلسوں میں کریں۔بازار میں اور باہر اور ایسی جگہوں پر جہاں مردوں کا سامنا ہو وہاں یہ فیشن کے اظہار ایسے نہیں ہونے چاہئیں جس سے بلاوجہ کی بُرائیاں پیدا ہونے کا امکان ہو سکے۔اسلامی پردے کی تعریف قرآن کریم نے بڑی کھول کر بیان کر دی ہے۔اس کو پڑھیں اور اس پر عمل کریں۔اس بارے میں میں بھی اور پہلے خلفاء بھی بڑی تفصیل سے کئی دفعہ سمجھا چکے ہیں۔اس پر عمل کرنے کی کوشش کریں۔اس کو سمجھنے کی کوشش کریں۔حکم تو یہ ہے کہ مردوں سے عورت بات بھی ایسے رنگ میں کرے ایسے لہجے میں کرے جس سے کسی قسم کی نرم آواز کا اظہار نہ ہوتا ہو ، تا کہ مردوں کے دل میں کبھی کوئی غلط خیال پیدا نہ ہو۔پھر مردوں کے میل جول سے بھی بچنا چاہئے۔اس سے بھی اعراض کریں۔ایک عمر کے بعد بچیاں اپنے کلاس فیلو اور سکول فیلولڑکوں سے بھی ایک حجاب پیدا کریں۔ایک حجاب کے اندر رہتے ہوئے بات ہونی چاہئے جب بھی ضرورت ہو۔لڑکیاں خود بھی اس بات کا خیال رکھیں اور ماں باپ بھی اس بات کی نگرانی کریں۔خاص طور پر مائیں کہ ایک عمر کے بعد لڑ کی اگر دوسرے گھر میں جاتی ہے تو محرم رشتوں کے ساتھ جائے اور خاص طور پر جس گھر میں کسی سہیلی کے بھائی موجود ہوں کسی وقت میں ، ان اوقات میں ان گھروں میں نہیں جانا چاہئے۔پھر بعض جگہ یہ بھی ہوتا ہے کہ کوئی احساس نہیں دلایا جاتا تو گھروں میں جو کلاس فیلولر کے ہوتے ہیں بڑی عمر تک آتے چلے جاتے ہیں۔اللہ کا فضل ہے کہ احمدی معاشرے میں ایسی بُرائیاں بہت اکا دکا شاذ ہی ہوتی ہیں کہیں۔بیچ رہے ہیں لیکن اگر اس کو کھلی چھٹی دیتے چلے گئے تو یہ بُرائیاں بڑھنے کے امکانات ہیں۔رشتے برباد ہونے کے امکانات ہیں۔لڑکیوں نے اگر اس معاشرے میں تفریح کرنی ہے تو اس کا سامان کرنا لجنہ کا کام ہے۔ہر جگہ پر پھر مساجد کے ساتھ یا نما ز سنٹرز کے ساتھ کوئی انتظام کریں جہاں احمدی بچیاں جمع ہوں اور اپنے پروگرام کریں۔اگر بچپن سے ہی بچیوں کے ذہن میں یہ بات ڈالنی شروع کر دیں گی کہ تمہارا ایک تقدس