اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ دوم) — Page 10
الازهار لذوات الخمار جلد سوم حصہ دوم 10 جلسہ سالانہ برطانیہ 2006 مستورات سے خطاب نے شادی کے بعد اپنی بیویوں کو احمدیت و دین پر قائم نہیں کیا تو غیر صالح عمل بن جاتے ہیں۔پس ہر جائز کام ہر ایک کے لئے صالح عمل نہیں بن جاتا۔پس ان باتوں پر ماں باپ کو بھی غور کرنے کی ضرورت ہے اور نوجوان بچیوں و بچوں کو بھی۔یہ ایک مثال میں نے دی ہے بعض ایسے واقعات ہو جاتے ہیں جو اس قسم کی صورت حال سامنے آجاتی ہے ایک انتہا ہے جو ایک اکا دکا کہیں نظر آتی ہے جیسا کہ میں نے کہا، مثال دی ہے، لیکن فکر پیدا کرتی ہے اور صرف تعلیمی اداروں میں جا کر ہی نہیں۔ویسے بھی بعض جگہوں پر کام کرنے کی وجہ سے یا ماحول کی وجہ سے یا دوستیاں پیدا ہونے کی صورت میں ایسے حالات پیدا ہو جاتے ہیں جو احمدی لڑکے اور احمدی لڑکی کو اپنا ماحول چھوڑ کر غیروں میں شادی کرنے پر مجبور کرتے ہیں یا خود اپنے آپ کو مجبور سمجھ رہے ہوتے ہیں۔بعض احمدی لڑکیاں اپنی آزادی کے حق کے اظہار کے طور پر غیروں سے شادی کر لیتی ہیں۔دلیل دی جاتی ہے کہ اہل کتاب سے شادی کرنے کی اجازت ہے۔ٹھیک ہے اجازت تو ہے لیکن یہ بھی یاد رکھیں کہ اہل کتاب کو اللہ تعالیٰ نے مشرکین کے ساتھ ملا کر کافر بھی قرار دیا ہے اور یہ بھی ہے کہ ایسے لوگوں سے تعلق قائم کر کے تم اپنی نسلوں کو خراب کر لو گے پس! یہ بڑے سوچنے والی باتیں ہیں بعد میں پچھتانے کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا بعد میں ایسے لوگ خود بھی پریشان ہوتے ہیں اور خط لکھ کر مجھے بھی پریشان کرتے ہیں اس لئے ہمیشہ ایسے فیصلے جذبات کے بجائے دعا سے کرنے چاہیں اور یہ ازدواجی رشتہ قائم کرنا تو ایسا معاملہ ہے جو بہت سوچ سمجھ کر اور دعا کر کے کرنا چاہیے اس لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم جب شادی کرنے لگو تو نہ دولت دیکھو نہ صورت دیکھو نہ خاندان دیکھو جو د یکھنے کی چیز ہے اور جس پر تمہیں غور کرنا چاہیے وہ دینداری ہے اسے دیکھو۔پس اگر یہ معیار بن جائیں تو پھر دیکھیں کس طرح ہمارا معاشرہ مکمل طور پر پاک لوگوں کا معاشرہ بن جاتا ہے۔پس ہمیشہ یاد رکھیں کہ ایک احمدی بچی اور ایک احمدی عورت کا ایک تقدس ہے اس کی حفاظت اس کا کام ہے کوئی ایسا کام نہ کریں جو دین سے دور لے جانے والا ہو۔کوئی ایسا کام نہ کریں جس سے آپ کے تقدس پر حرف آتا ہو عورتوں کو کام کرنا ہے یہ منع نہیں مثلاً نوکریاں کرنا۔تعلیم حاصل کرنا منع نہیں ہے لیکن جیسا کہ میں نے کہا اگر ایسے کام کریں گی جس سے بدنتائج نکلتے ہوں تو وہ منع ہیں اس لئے ایسے کام کریں پڑھائی میں ایسی لائن احمدی بچیاں چنیں جو ان کو فائدہ دینے والی ہوں اور انسانیت کو بھی فائدہ دینے والی ہو۔اب مثلاً بعض