اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ دوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 149 of 156

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ دوم) — Page 149

الازهار لذوات الخمار جلد سوم حصہ دوم 149 خطبہ جمعہ فرمود 160 نومبر 2007 اپنے اہل کے ساتھ حسن سلوک کرنے میں بہترین ہے اور میں تم سب میں اپنی بیویوں کے ساتھ بہترین سلوک کرنے والا ہوں۔پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَعَاشِرُوهُنَّ بِالْمَعْرُوْفِ ، فَإِنْ كَرِهْتُمُوْهُنَّ فَعَسَى أَنْ تَكْرَهُوا شَيْئًا وَيَجْعَلَ اللهُ فِيْهِ خَيْرًا كَثِيْرًا (النساء :20) کہ اپنی بیویوں کے ساتھ نیک سلوک کرو۔اگر تم میں کوئی شخص اپنی بیوی کو نا پسند بھی کرتا ہوتو پھر بھی یاد رکھو کہ عین ممکن ہے کہ تم کسی چیز کو نا پسند کرو مگر خدا تعالیٰ نے اس میں تمہارے لئے انجام کے لحاظ سے بڑی خیر مقدر کر رکھی ہو۔پس مرد کو بھی اپنے فیصلوں میں جلد بازی نہیں کرنی چاہئے۔بلکہ اس کو ذہن میں رکھنا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ اس چیز پر قدرت رکھتا ہے کہ انجام بہتر فرمائے۔آئے دن طلاقیں ہو جاتی ہیں اس لئے مردوں کو بھی غور کر کے سوچ سمجھ کے پھر فیصلے کرنے چاہئیں اور اس امر کو پیش نظر رکھنا چاہئے کہ بعض چھوٹی چھوٹی وجہ سے مسائل بڑھ رہے ہوتے ہیں، ہو سکتا ہے کہ تم اس بات کو نا پسند کرو لیکن اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے اس میں بہتری رکھی ہو۔اگر خدا کی رضا کے لئے اور دعا کرتے ہوئے یہ سلوک اپنی بیوی سے کیا جائے تو اللہ تعالیٰ برکت ڈالتا ہے۔جو گھر تباہی کے کنارے پر ہوتے ہیں ٹوٹنے والے ہوتے ہیں اگر ان کے بچے ہیں تو بچے گھروں میں سہمے ہوئے ہوتے ہیں ، وہی گھر پھر اللہ کی رضا حاصل کرنے والوں کے لئے پر امن اور پیار اور محبت قائم رکھنے والے بن جاتے ہیں۔اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں مرد اور عورت دونوں کو ایک نصیحت یہ بھی فرما دی کہ حقوق کے لحاظ سے گوتم دونوں برابر ہو لیکن مرد کو انتظامی لحاظ سے اور بعض طاقتوں کے لحاظ سے ، بعض ذمہ داریوں کے لحاظ سے فوقیت حاصل ہے۔اس لئے عورت کو اس بات کا بھی مرد کو مارجن (margin) دینا چاہئے۔مردوں کو بھی فرمایا کہ تمہیں اگر قوام ہونے کے لحاظ سے فضیلت دی ہے تو ان ذمہ داریوں کو سمجھنا اور سنبھالنا بھی تمہارا کام ہے۔گھر کے انتظامات اور اخراجات کے لئے رقم مہیا کرنا بھی تمہارا کام ہے۔یہ نہیں کہ گھر میں پڑے رہو اور بیوی کو کہو کہ جاؤ جا کر باہر کماؤ اور کام کرو۔یہاں مغربی معاشرہ میں بعض گھروں میں یہ بھی ہو رہا ہے۔بیوی بچوں کی تمام ذمہ داری اٹھانا تمہارا کام ہے۔پس اللہ تعالیٰ نے جو عزیز اور حکیم ہے عورتوں اور مردوں کے حقوق قائم فرما دئے۔اور مردوں کو آخر