اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ دوم) — Page 128
الازهار لذوات الخمار جلد سوم حصہ دوم 128 خطبہ جمعہ فرمود : 06 اپریل 2007 جس دن وہ مالک یوم الدین جزا اور سزا کے فیصلے کرے گا اس دن یہ سب لوگ جوابدہ ہوں گے۔اس لئے کوئی معمولی بات نہیں ہے۔دل دہل جاتا ہے ہر اس شخص کا جو جزا سزا پر یقین رکھتا ہے۔پھر بیوی کو توجہ دلائی کہ خاوند کے گھر کی ، اس کی عزت کی ، اس کے مال کی اور اس کی اولاد کی صحیح نگرانی کرے۔اس کا رہن سہن، رکھ رکھاؤ ایسا ہو کہ کسی کو اس کی طرف انگلی اٹھانے کی جرات نہ ہو۔خاوند کا مال صحیح خرچ ہو۔بعضوں کو عادت ہوتی ہے بلا وجہ مال لوٹاتی رہتی ہیں یا اپنے فیشنوں یا غیر ضروری اشیاء پر خرچ کرتی ہیں ان سے پر ہیز کریں۔بچوں کی تربیت ایسے رنگ میں ہو کہ انہیں جماعت سے وابستگی اور خلافت سے وابستگی کا احساس ہو۔اپنی ذمہ داری کا احساس ہو۔پڑھائی کا احساس ہو۔اعلیٰ اخلاق کے اظہار کا احساس ہوتا کہ خاوند کبھی یہ شکوہ نہ کرے کہ میری بیوی میری غیر حاضری میں ( کیونکہ خاوند اکثر اوقات اپنے کاموں کے سلسلہ میں گھروں سے باہر رہتے ہیں ) اپنی ذمہ داریاں صحیح ادا نہیں کر رہی۔اور پھر یہی نہیں ، اللہ تعالیٰ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ خاوند کا شکوہ یا زیادہ سے زیادہ اگر سزا بھی دے گا تو یہ تو معمولی بات ہے۔یہ تو سب یہاں دنیا میں ہو جائیں گی لیکن یاد رکھو تم جزا سزا کے دن بھی پوچھی جاؤ گی۔اور پھر اللہ بہتر جانتا ہے کہ کیا سلوک ہونا ہے۔اللہ ہر ایک پر رحم فرمائے۔