اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ دوم) — Page 127
الازهار لذوات الخمار جلد سوم حصہ دوم 127 خطبہ جمعہ فرموده 106 اپریل 2007 عورت جو اپنے خاوند کے گھر اور اس کے بچوں کی نگران " آج میں بعض احادیث کا صفت مالکیت کے لحاظ سے ذکر کروں گا۔ایک روایت میں آتا ہے:۔حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ علی کو یہ کہتے سنا کہ تم میں سے ہر ایک نگران ہے اور اپنی رعیت کے بارے میں جوابدہ ہے۔امام نگران ہے اور وہ اپنی رعیت کے بارے میں جوابدہ ہے۔آدمی اپنے گھر والوں پر نگران ہے اور اس سے اس کی رعیت کے بارے میں پوچھا جائے گا۔عورت اپنے خاوند کے گھر کی نگران ہے، اس سے اس کی رعیت کے بارے میں پوچھا جائے گا۔خادم اپنے مالک کے مال کا نگران ہے اور اس سے اس کی رعیت کے بارے میں پوچھا جائے گا۔(بخارى كتاب الأسقراض و اداء الديوان باب العبد راع في مال سيده ولا يعمل الا باذنه۔حديث نمبر 2409) اس حدیث میں چار لوگوں کو توجہ دلائی گئی ہے۔ایک امام کو کہ وہ اپنی رعیت کا خیال رکھے۔ایک گھر کے سربراہ کو کہ وہ اپنے بیوی بچوں یا اگر اپنے خاندان کا سر براہ ہے تو اس کا خیال رکھے۔ایک عورت جو اپنے خاوند کے گھر اور اس کے بچوں کی نگران ہے ان کا خیال رکھے۔ایک خادم جو اپنے مالک کے مال کا نگران ہے۔پھر آخر میں فرمایا کہ یہ سب لوگ جن کے سپرد یہ ذمہ داری کی گئی ہے، یہ سب یا درکھیں کہ جو مالک کل ہے، جوزمین و آسمان کا مالک ہے جس نے یہ ذمہ داریاں تمہارے سپرد کی ہیں وہ تم سے ان ذمہ داریوں کے بارے میں پوچھے گا کہ مسیح طرح ادا کی گئی ہیں یا نہیں کی گئیں۔