اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ دوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 98 of 156

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ دوم) — Page 98

الازهار لذوات الخمار جلد سوم حصہ دوم 98 جلسہ سالانہ جرمنی 2007 مستورات سے خطاب بنائیں گی۔تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے اپنی کمائی سے یا اپنے گھر کی بچت سے دل کھول کر چندے دے رہی ہیں جرمنی کی لجنہ اماءاللہ۔بے شمار ہیں جنہوں نے اپنے پر تنگی کر کے بھی بڑی بڑی رقمیں مسجد کے لئے دی ہیں۔پانچ سو، ہزار یورویا اس زیادہ دے رہی ہیں حالانکہ معمولی آمد ہے۔کئی ہیں جنہوں نے زیور دیئے ہیں اور بڑی خوشی اور بشاشت سے دیئے ہیں۔میرے ذریعے سے بھی بہت ساروں نے پیش کئے۔تو یہ احمدی عورت کا طرہ امتیاز ہے۔لیکن بعض ایسی بھی ہیں جو صرف دنیا داری میں پڑی ہوئی ہیں۔ان سے بھی میں یہ کہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے جو نصیحت فرمائی ہے اس پر غور کرو اس سے تم اپنے ایمان مضبوط کر رہی ہوگی۔اللہ تعالیٰ کا یہ حکم ہے کہ اللہ کی راہ میں خرچ کرو۔تو جو اپنی بچتیں کرتی ہو، کنجوسی کی خاطر نہیں بلکہ اس لئے کہ ہم نے اللہ کی راہ میں دینا ہے اس کی راہ میں خرچ کرنا ہے۔ان بچتوں کو پھر اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ بھی کرو۔اسی سے پھر آپ اپنے ایمان میں مضبوطی پیدا کریں گی اور اسی سے اپنی نسلوں کا تعلق بھی خدا تعالیٰ سے جوڑیں گی۔اگر پیسے بچائیں تو اس نیت سے بچائیں جیسا کہ میں نے کہا کہ دین کی خاطر خرچ کرنا ہے۔پھر اللہ تعالیٰ کا ایک بہت اہم حکم ہے۔عورت کو اپنی زینت چھپانے اور پردے کا حکم ایک مومن عورت کو، اپنی زینت چھپانے کا اور پردے کا۔اس مغربی معاشرے میں بعض پڑھی لکھی بچیاں اور عورتیں معاشرے کے زیر اثر یا خوف کی وجہ سے کہ آج کل پر دے کے خلاف بڑی روچل رہی ہے، پردے کا خیال نہیں رکھتیں۔ان کے لباس فیشن کی طرف زیادہ جارہے ہیں۔مسجد میں بھی اگر جانا ہو یا سینٹر میں آنا ہو تو اس کے لئے تو پردے کے ساتھ یا اچھے لباس کے ساتھ آجاتی ہیں لیکن بعض یہ شکایتیں ہوتی ہیں کہ بازاروں میں اپنے لباس کا خیال نہیں رکھتیں۔ایک بات یادرکھیں کہ حیا ایمان کا حصہ ہے اور حیا عورت کا ایک خزانہ ہے اس لئے ہمیشہ حیادار لباس پہنیں۔ہمیشہ یادرکھیں کہ ایک احمدی عورت کا، ایک احمدی بچی کا ایک تقدس ہے اس کو قائم رکھنا ہے آپ نے۔ہمیشہ یادرکھیں کہ اللہ تعالیٰ نے قرآنِ کریم میں پردے کا حکم دیا ہے تو یقیناً اس کی کوئی اہمیت ہے۔اُن مغرب زدہ لوگوں کی طرح نہ بنیں جو یہ کہتی ہیں کہ پردے کا حکم تو پرانا ہو گیا ہے یا خاص حالات میں تھا۔قرآنِ کریم کا کوئی حکم بھی کبھی پرانا نہیں ہوتا اور کبھی بدلا نہیں جاتا۔اللہ تعالیٰ کو پتہ تھا کہ ایک زمانہ میں ایسی سوچ پیدا