اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ دوم) — Page 97
الازھار لذوات الخمار جلد سوم حصہ دوم 97 جلسہ سالانہ جرمنی 2007 مستورات سے خطاب لئے سلامتی کے پھول بکھیر و۔پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ایک جگہ یہ حکم دیا کہ اللہ کے حقیقی عبادت گزاروں کی خصوصیت کیا ہونی چاہیے۔فرمایا کہ ان کے خرچ میں نہ اسراف ہوتا ہے نہ وہ کنجوسی سے کام لیتے ہیں۔بعض عورتوں میں یہ عادت ہوتی ہے کہ دیکھا دیکھی کہ فلاں نے اپنا زیور بنایا ہے تو میں بھی بناؤں یا فلاں نے ایسے کپڑے بنائے ہیں تو میں بھی بناؤں۔بلکہ ایک جگہ کسی نے مجھے بتایا، یہاں نہیں کسی اور ملک کا ذکر ہے کہ ایک عورت نے کسی کا دیا ہوا تحفہ یہ کہہ کر واپس کر دیا کہ یہ میں نہیں پہنوں گی ، حالانکہ بالکل نیا قسم کا کپڑا آیا تھا، کہ اس کو پہنے ہوئے میں نے فلاں عورت کو بھی دیکھ لیا ہے۔اتنی زیادہ آپس میں مقابلہ بازی ہو جاتی ہے کہ وہ کپڑا بھی نہیں پہننا جو کسی اور نے پہنا ہوا ہو، میری انفرادیت قائم رہے۔تو یہ چیزیں جو ہیں انتہائی فضول اور لغو چیزیں ہیں۔پھر خاوندوں کو بھی مجبور کرتی ہیں کہ ان کی خواہشات کو پورا کیا جائے۔بچوں کی شادیوں پر خاص طور پر جب پاکستان جا کر شادیاں ہوتی ہیں تو بعض فضول خرچیاں ہو رہی ہوتی ہیں۔یہ ٹھیک ہے کہ مرد بھی اس میں شامل ہوتے ہیں بلکہ شاید قصور وار زیادہ ہوں۔اور تو بہت ساری باتیں عورتوں کی نہیں مانتے لیکن جہاں جھوٹے اظہار اور دکھاوے کا سوال آئے تو فوراہاں میں ہاں ملاتے ہیں ایسے مرد، اس لئے مرد بہر حال اس معاملے میں زیادہ جاہل ہیں کیونکہ بعض دفعہ قرض بھی لے لیتے ہیں لیکن عورت اگر چاہے بہت سے غیر ضروری اخراجات کو کنٹرول کر کے اپنے خاوند کے گھر کی نگران کا کردار ادا کر سکتی ہے اور بہترین طور پر کردار ادا کر سکتی ہے۔جن خاندانوں میں یہ دکھاوے اور فضول خرچیاں ہوں پھر ان کی اولا د بھی اسی ڈگر پر چل پڑتی ہے تو بہر حال فضول خرچی سے بچنے کا اللہ تعالیٰ نے خاص طور پر حکم فرمایا ہے لیکن ساتھ ہی یہ بھی ہے کہ بالکل کنجوس نہ ہو جاؤ بالکل اپنے پیسے پر سانپ کی طرح نہ بیٹھ جاؤ کنڈلی مار کے، پیسے جوڑتے جوڑتے ساری زندگی نہ گزار جاؤ کہ اس کا اظہار بھی نہ ہو۔اللہ تعالیٰ نے جو نعمتیں دی ہیں ان کا اظہار بھی ہونا چاہیے۔یہ اللہ تعالیٰ کا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی جماعت پر بڑا احسان ہے کہ اکثریت اگر اپنے خرچ کم کر کے پیسے جوڑتی ہے تو پھر وہ بچت چندوں کی صورت میں ادا کر کے اللہ کے دین کی خدمت کرتی ہیں۔اب برلن کی مسجد میں عورتوں نے ذمہ واری لی ہے، یہ حامی بھری ہے کہ ہم یہ مسجد