اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ اوّل) — Page 93
الازهار لذوات الخمار جلد سوم حصہ اوّل 93 لجنہ اماءاللہ برطانیہ کی استقبالیہ تقریب 2004 سے خطاب رہی ہے اور لوگ جوق در جوق اس میں شامل بھی ہو رہے ہیں۔حضور ایدہ اللہ نے فرمایا کہ اصل میں اللہ تعالیٰ کو اپنے پیاروں کی عزت کا بڑا خیال رہتا ہے۔اللہ تعالیٰ کا اپنا ایک کام ہے جو بعض لوگوں کے ذریعہ سے کرواتا ہے۔اور انبیاء کو جو دنیا میں بھیجتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کے پیارے ہوتے ہیں ان کے ذریعہ سے وہ دنیا میں اپنی تعلیم اور اپنا نظام قائم کرنا چاہتا ہے۔اور پھر انبیاء کے بعد ان کے ماننے والوں کے ذریعہ اور پھر خلافت کے ذریعہ سے وہ نظام جاری رہتا ہے اور ترقی کرتا چلا جاتا ہے۔حضور ایدہ اللہ نے فرمایا کہ اب افریقہ کے ممالک ہیں۔دو ممالک ایسے ہیں جہاں گزشتہ دس پندرہ سال میں جماعت احمد یہ قائم ہوئی اور ایک آدمی سوچ سکتا ہے کہ ٹھیک ہے غریب لوگ ہیں انہوں نے جماعت کو مان لیا لیکن شاید بھیڑ چال میں مان لیا ہو۔لیکن جب آپ وہاں جا کر دیکھتے ہیں تو پتہ لگتا ہے کہ جس فراست سے اور روشن دماغی سے اور نور یقین کے ساتھ انہوں نے جماعت کو، احمدیت کو قبول کیا ہے وہ صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہی اگر دی جائے تو یہ حالت میسر آسکتی ہے۔مرد، عورتیں، بچے مختلف طبقات میں سے جماعت میں شامل ہوئے۔کچھ احمدیت میں شامل ہونے سے پہلے پیکنز (Pagans) تھے، لا مذہب تھے۔کچھ عیسائیت میں سے آئے، کچھ مسلمانوں میں سے آئے۔غرض مختلف مذاہب میں سے احمدیت میں شامل ہوئے اور اتنا جوش اور ایمان ہے ان کے اندر کہ دیکھ کر حیرت ہوتی ہے۔اور پھر اس یقین سے دل بھر جاتا ہے اور تسلی ہوتی ہے کہ یہ واقعی خدا تعالیٰ کی جماعت ہے اور خدا تعالیٰ نے ہی ان کے دلوں کو پھیرا ہے۔ایک جوش، ایک جذبہ، ایک محبت تھی جو ان کی آنکھوں میں سے ٹپک رہی ہوتی تھی خلیفہ وقت کے لئے۔حضور ایدہ اللہ نے فرمایا کہ عموماً دیکھا گیا ہے کہ عورتوں میں خاص طور پر ایسے طبقے جو ان پڑھ ہوں ان میں مذہب کا اتنا خیال نہیں ہوتا۔لیکن ان عورتوں میں بھی اس قدر مذہب کی عزت واحترام تھا اور اس پر عمل کرنے کی کوشش اس حد تک بھی وہ کرتی تھیں کہ وہ نہیں چاہتی تھیں کہ کوئی بھی ذریعہ جس سے وہ فائدہ اٹھا سکیں، ضائع ہو۔اسی طرح خلیفہ وقت سے محبت کا جواظہار ان کی آنکھوں میں نظر آتا تھا کوئی کہہ نہیں سکتا تھا کہ یہ ان پڑھ لوگ ہیں۔حضور انور ایدہ اللہ نے فرمایا کہ بہت ریموٹ (Remote) علاقے کے دُور دراز گاؤں کے